اتوار , 25 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

افغان طالبان کی مرکزی قیادت کے باہمی اختلافات حقیقت کا روپ دھارنے لگے

9 مہینے پہلے
A A
Differences within the central leadership of the Afghan Taliban are becoming a reality
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

افغان طالبان کی مرکزی قیادت کے باہمی اختلافات اب افواہوں سے آگے حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں۔اور بین الاقوامی میڈیا میں بی بی سی کی جانب سے سال بھر پہلے کی سپریم لیڈرہیبت اللہ اخندزادہ کی حاصل کردہ ایک آڈیو کلپ میں جس اندیشے کا اظہا کیا گیا تھا وہ سچ ہوتا دکھائی دیا ہے۔جب ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کے سپریم لیدر کے احکامات کو اجرا کے تیسرے روز ہی واپس لے لیا گیا۔
ہیبت اللہ اخندزادہ نےجنوری 2025 میں جنوبی شہر قندھار کے ایک مدرسے میں طالبان کے ارکان سے کی گئی تقریرمیں کہا تھا کہ طالبان کو کوئی بیرونی خطرہ نہیں۔ بلکہ افغانستان کے اندر سے ایک خطرہ ہے۔ جس پر طالبان نے پچھلی حکومت کے خاتمے اور 2021 میں امریکہ کے انخلا کے بعد کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔طالبان سپریم لیڈر کہہ رہے تھے کہحکومت کے اندرونی افراد اسلامی امارت میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں جو طالبان نے ملک پر حکومت کرنے کے لیے قائم کی ہے۔اور یہ اندرونی اختلافات بالآخر ان سب کو گرا سکتے ہیں۔اوریہی ہے وہ حقیقت جس کی طالبان قیادت ہمیشہ تردیدکرتی رہی ہے۔
افغان طالبان کی مرکزی قیادت کے بنیادی طور پر دوبڑے اور متعدد چھوٹے گروپوں پو مشتمل ہونے کے بارے میں معلومات سامنے آتی رہی ہیں ۔اور باقی دنیا کے متضاد پا کستان میں لوگوں کو اسکا پہلے سے ادراک ہے۔ چنانچہ افغان طالبان کی قیادت کے دو بنیادی گروپ قندھار اور کابل گروپ کے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔ سپریم لیڈر یا مرکزی امیر ہیبت اللہ اخندزادہ کی قیادت میں قندھار گروپ وزیر اعظم محمد حسن اخوند، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم پر مشتمل ہے۔اخوندزادہ کا وفادارگروپ قندھار میں اپنے اڈے سے ملک کو ایک سخت گیر اسلامی امارت کے اپنے تصورکی طرف لے جا رہا ہے۔ جو کہ جدید دنیا سے الگ تھلگ ہو اور جہاں اس کی وفادار مذہبی شخصیات معاشرے کے ہر پہلو کو کنٹرول کرتی ہوں۔


جبکہ کابل گروپ میں نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد شامل ہیں۔اور ان دونوں بڑے گروپوں کے ساتھ کئی صوبائی گورنروں کے چھوٹے گروپ بھی منسلک ہیں۔یہ گروپ طاقتور طالبان ارکان پر مشتمل ہے جو زیادہ تر دارالحکومت کابل میں مقیم ہیں۔ یہ ایسے افغانستان کی وکالت کر رہے ہیں جو کہ اسلام کی معتدل تشریح پر عمل کرتے ہوئےدنیا بھر کے ساتھ منسلک ہو۔یہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اور لڑکیوں اور خواتین کی شرائط کے ساتھ تعلیم اور ملازمت تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔
افغانستان میں بڑے اور بااثر قبائل کو حکومت میںشامل کر کے حکمرانی کا طریقہ بہت پرانا ہے۔ تاریخی اعتبار سے غزنویوں کے دور سے اس فارمولے پر زیادہ انحصار کیا جانے لگا۔اور آج بھی یہ فارمولہ کسی نہ کسی شکل میں کار فرما ہے۔چنانچہ آج قبائلی سرداروں کی جگہ ملاؤں نے لے لی ہے۔تاہم موجودہ طالبان سیٹ اپ میں بھی طاقت کے متعدد ستون ہیں جو دو بنیادی دھڑوں میں منقسم ہیں۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس بار معاملہ قندھار بامقابلہ کابل ہے ۔ چنانچہ ملک میں انٹرنیٹ کی بندش اور بحالی پہلا واقعہ ہے جب افغان طالبان وزراء، طاقتور عسکریت پسندوں اور ہزاروں طالبان کے وفاداروں کی حمایت رکھنے والے بااثر مذہبی اسکالرز پر مشتمل کابل گروپ نے آمریت کی جانب بڑھتےاخوندزادہ کو کسی معنی خیز انداز میں چیلنج کیا ہے۔کیونکہ پردے کے پیچھے جو کچھ ہوا وہ زلزلہ تھا۔ جس نے سپریم لیڈر اور قندھار گروپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس لئے بھی کہ یہ کام کابل گروپ نے اخندزادہ کے کابل میں موجود حامی وزیر اعظم ملا حسن اخوندسے کروایا ہے ۔
یہ بھی بتایا جاتا ہےکہ اخوندزادہ طالبان کو اقتدار ملنے سے پہلےہر معاملے میں باقاعدہ مشاورت کرتے تھے۔ لیکن اب اکثر طالبان وزراء ان سے ملاقات کے لئے دنوں یا ہفتوں تک انتظار کرتے ہیں۔حتیٰ کہ کابل میں مقیم وزراء سے کہا گیا ہے کہ وہ قندھار کا سفر صرف اس صورت میں کریں جب انہیں کوئی سرکاری دعوت ملے۔یوں ہیبت اللہ قندھار کو طاقت کا مرکز بنا رہے ہیں اور وہیں عسکری قوت کو جمع کررہے ہیں۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سپریم لیڈر کابل میں وزراء کو نظرانداز کرتے ہوئے مقامی پولیس یونٹوں تک کو براہ راست احکامات جاری کررہے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میںحقیقی اختیار قندھار کو منتقل کر دیا گیا ہے۔جہاں سے ہونے والے فیصلے افغانستان کو دنیا سے الگ کرکے تنہائی میں لے جا رہے ہیں۔
یہی وہ بنیادی اختلاف ہے جو کابل گروپ کے جہا ں دیدہ قائدین کی پریشانی کا باعث ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح ملک اور حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔

موضوعات : afghanistankabultaliban
ShareSend

متعلقہ خبریں

Economic crisis in Afghanistan forces teacher to give up writing and drive rickshaw
تازہ ترین

افغانستان میں معاشی بدحالی، استاد قلم چھوڑ کر رکشہ چلانے پر مجبور

21 اکتوبر , 2026
Russia offers cooperation to help end tensions between Pakistan and Afghanistan.
تازہ ترین

پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی ختم کرانے کے لیے روس کی تعاون کی پیشکش

20 اکتوبر , 2026
The Taliban's policies have severely affected the fundamental rights and freedoms of citizens.
تازہ ترین

طالبان کی پالیسیوں کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیاں شدید متاثر

14 اکتوبر , 2026
4,582 incidents of grave crimes against children in Afghanistan.
تازہ ترین

افغانستان میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے 4582 واقعات

13 اکتوبر , 2026
Global confirmation of terrorism from Afghanistan
تازہ ترین

افغانستان سے دہشت گردی کی عالمی سطح پر تصدیق

12 اکتوبر , 2026
کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک، پاک فوج کا جوان شہید
پاکستان

کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک، پاک فوج کا جوان شہید

11 اکتوبر , 2026
اگلی خبر
ایران کا 10 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تجربے کا دعویٰ

ایران کا 10 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تجربے کا دعویٰ

یہ بھی پڑھیں

یمن میں سعودی فورسز کے فضائی حملے،متعدد افراد جاں بحق و زخمی

یمن میں سعودی فورسز کے فضائی حملے،متعدد افراد جاں بحق و زخمی

24 اکتوبر , 2026
لاہور میں اسکوٹی سوار لڑکی پر مبینہ تشدد کا کیس، گرفتار ملزم کی ضمانت ہو گئی

لاہور میں اسکوٹی سوار لڑکی پر مبینہ تشدد کا کیس، گرفتار ملزم کی ضمانت ہو گئی

24 اکتوبر , 2026
ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیاں، عمرہ زائرین کی ویکسینیشن بند، کراچی ایئرپورٹ سے کاؤنٹر بھی ختم

ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیاں، عمرہ زائرین کی ویکسینیشن بند، کراچی ایئرپورٹ سے کاؤنٹر بھی ختم

24 اکتوبر , 2026
غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا کیس، ملزم احمد تنویر عدالت سے زیر حراست، ڈیانا نے بے گناہ قرار دیدیا

غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا کیس، ملزم احمد تنویر عدالت سے زیر حراست، ڈیانا نے بے گناہ قرار دیدیا

24 اکتوبر , 2026
سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ،قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اعظم کپتان مقرر، کئی بڑے کھلاڑی باہر

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ،قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر اعظم کپتان مقرر، کئی بڑے کھلاڑی باہر

24 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔