کویت (پاک ترک نیوز )کویت نے شہریت سے محروم بعض افراد کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں 10 سال تک باقاعدہ رہائشی اجازت نامہ دینے کا نیا قانونی راستہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئی سہولت کے تحت سالانہ اقامتی فیس بھی معاف ہوگی۔ مزید جانتے ہیں اس رپورٹ میں۔
کویت نے ان افراد کے لیے نیا اقامتی نظام متعارف کرا دیا ہے جن کی کویتی شہریت واپس لے لی گئی ہے اور جنہوں نے بعد میں اپنی سابقہ غیر ملکی یا کوئی دوسری شہریت حاصل کرلی ہے۔
نئے قانون کے تحت اہل افراد کو زیادہ سے زیادہ 10 سال تک باقاعدہ اقامہ جاری کیا جاسکے گا۔ اقامے کے اجرا، تجدید اور کویت میں کام کرنے کی اجازت سے متعلق شرائط جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ریزیڈنسی افیئرز طے کرے گا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے آرٹیکل 7 مکرر کے تحت اقامہ حاصل کرنے والے افراد کو سالانہ اقامتی فیس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
قانون میں کویت سے باہر قیام کے حوالے سے بھی قواعد تبدیل کیے گئے ہیں۔ کویتی اقامہ رکھنے والے گھریلو ملازمین کو عام طور پر زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک ملک سے باہر رہنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے زیادہ قیام کے لیے مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے متعلقہ حکام سے اجازت لینا ہوگی، ورنہ اقامہ ختم ہوسکتا ہے۔
نئے قانون کے تحت اس خصوصی اقامے کے حامل افراد کے قریبی اہل خانہ، یعنی شوہر یا بیوی، بچوں، والد اور والدہ کے لیے فی فرد 10 کویتی دینار سالانہ فیس مقرر کی گئی ہے۔
جبکہ دیگر رشتہ داروں کے لیے یہ فیس 300 کویتی دینار فی فرد سالانہ ہوگی۔حکام کے مطابق نئے ضابطے سے شہریت واپس لیے جانے سے متاثرہ افراد کو کویت میں قانونی اور طویل مدتی رہائش کا واضح راستہ مل جائے گا۔












