تہران: (پاک ترک نیوز)ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 10 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔
اگر اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران کے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے پروگرام میں ایک تاریخی اور انتہائی خطرناک پیش رفت تصور کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں براعظمی امریکا نظریاتی طور پر ایرانی میزائلوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن محسن زنگنہ نے کیا، جنہوں نے کہا کہ“دو رات قبل ہم نے ملک کے جدید ترین میزائل کا تجربہ کیا، جو اس سے پہلے کبھی آزمائش کے مرحلے سے نہیں گزرا تھا، اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔”ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کا مقصد محض معمولی رینج میں اضافے کا تاثر دینا نہیں بلکہ واضح طور پر بین البراعظمی صلاحیت کا اشارہ دینا تھا۔
یہ بیانیہ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک حلقوں کے مؤقف کے عین مطابق ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ایران کی دفاعی خودکفالت اور پابندیوں کے باوجود اسٹریٹجک طاقت کے حصول کا ثبوت ہے۔19 جنوری 2026 تک کسی مغربی یا آزاد انٹیلی جنس ادارے نے اس ICBM تجربے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم امام خمینی اسپیس پورٹ سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا سرگرمی اور ایرانی پارلیمنٹ کے بیانات نے امریکا، یورپ اور ایشیا کے دفاعی منصوبہ سازوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران واقعی 10 ہزار کلومیٹر رینج کا میزائل بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے تو وہ محض ایک علاقائی طاقت نہیں رہے گا بلکہ عالمی سطح پر حملہ آور صلاحیت رکھنے والا ملک بن جائے گا، جس سے امریکا، یورپ، اسرائیل اور انڈو پیسیفک خطے کی سکیورٹی حکمتِ عملی یکسر تبدیل ہو جائے گی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اندرونی بے چینی، مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگوں اور روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے عسکری تعاون میں مصروف ہے، جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ تہران بحران کے ماحول میں تیزی سے اسلحہ سازی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ایران کا میزائل پروگرام 1980 سے 1988 کی ایران-عراق جنگ کے دوران شروع ہوا، جب عراقی حملوں کے جواب میں ایران نے غیر متوازن دفاعی حکمتِ عملی اپنائی۔ ابتدا میں شمالی کوریا اور لیبیا سے حاصل کیے گئے اسکاڈ میزائلوں پر انحصار کیا گیا، بعد ازاں شاہاب میزائل سیریز کے ذریعے ایران نے مقامی سطح پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کیے۔2000 کے بعد ایران نے ٹھوس ایندھن والے میزائلوں پر توجہ دی، جس سے لانچ کی رفتار، بقا اور درستگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق ایران نے میزائلوں کی درستگی کو “چند درجن میٹر” تک بہتر بنا لیا ہے۔2025 میں ایران-اسرائیل کشیدگی کے بعد ایران نے میزائل پروگرام کو مزید تیز کیا۔ اسی دوران ایران نے خرمشہر-5 میزائل متعارف کرایا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کی رینج 12 ہزار کلومیٹر تک ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے یہاں تک کہا کہ ایسے چند میزائل امریکا کو ایٹمی بموں جیسا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔مغربی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ 5 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے میزائل تیار کرنے کے لیے برسوں کی آزمائش، ملٹی اسٹیج لانچ، ری انٹری ٹیکنالوجی اور ہدف پر درست نشانہ ضروری ہوتا ہے، جس کی آزاد تصدیق تاحال موجود نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جان بوجھ کر ابہام کی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے تاکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں پر نفسیاتی اور اسٹریٹجک دباؤ بڑھایا جا سکے۔یہ دعویٰ درست ہو یا محض طاقت کے اظہار کی کوشش، ایک بات طے ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اب علاقائی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔












