لاہور( پاک ترک نیوز) کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے برعکس، جوہری توانائی اور شمسی توانائی دنیا بھر میں صاف توانائی فراہم کرنے کے دو جدید ذرائع ہیں۔ شمسی توانائی تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔ آپ چھوٹے سولر پینلز خرید کر اپنے آلات چارج کر سکتے ہیں یا اپنے گھر کی چھت پر سولر سسٹم نصب کرا سکتے ہیں۔
اس کے برعکس جوہری توانائی انتہائی سخت قوانین اور حکومتی نگرانی کے تحت چلتی ہے۔ جوہری پاور پلانٹس بڑے توانائی ادارے چلاتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے مسلح گارڈز، ڈرونز اور دیگر سکیورٹی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک جوہری ری ایکٹر کی پیداوار کو شمسی توانائی سے بدلنا ہو تو کتنے سولر پینلز درکار ہوں گے؟
حساب کتاب کیا کہتا ہے؟
امریکا کی ریاست پنسلوانیا میں واقع پیچ بوٹم کلین انرجی سینٹر تقریباً 20 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ اس کے دو جوہری ری ایکٹرز کی مجموعی پیداوار 2,646 میگاواٹ ہے، یعنی ہر ری ایکٹر تقریباً 1,323 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔
دوسری طرف ٹیسلا کا ایک گھریلو سولر پینل زیادہ سے زیادہ 420 واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔
چونکہ 1 میگاواٹ 10 لاکھ واٹ کے برابر ہوتا ہے لہٰذا ایک جوہری ری ایکٹر کے برابر بجلی پیدا کرنے کے لیے تقریباً 31 لاکھ 50 ہزار (3.15 ملین) ٹیسلا سولر پینلز درکار ہوں گے۔
ٹیسلا کے ایک سولر پینل کا رقبہ تقریباً 22 مربع فٹ ہے۔اگر 31 لاکھ 50 ہزار پینلز نصب کیے جائیں تو ان کا مجموعی رقبہ:تقریباً 6 کروڑ 94 لاکھ مربع فٹ یا تقریباً 2.49 مربع میل بنے گا۔
چونکہ بیچ بوٹم پلانٹ میں دو ری ایکٹر موجود ہیں، اس لیے دونوں کی پیداوار کے برابر بجلی حاصل کرنے کے لیے تقریباً 5 مربع میل رقبے پر مشتمل سولر فارم درکار ہوگا۔اس کے مقابلے میں پورا جوہری پلانٹ صرف 600 ایکڑ یعنی تقریباً 0.93 مربع میل رقبے پر قائم ہے۔
جوہری اور شمسی توانائی دونوں صاف توانائی کے اہم ذرائع ہیں، لیکن ان کی خصوصیات مختلف ہیں۔ جوہری ری ایکٹر کم رقبے میں مسلسل اور بڑی مقدار میں بجلی فراہم کر سکتا ہے، جبکہ شمسی توانائی کے لیے وسیع زمین، دھوپ کی دستیابی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے اضافی نظام درکار ہوتے ہیں۔
اسی لیے عملی طور پر نہ تو ہر جگہ جوہری توانائی سولر پاور کی جگہ لے سکتی ہے اور نہ ہی سولر توانائی ہر صورت میں جوہری بجلی کا مکمل متبادل بن سکتی ہے۔ دونوں ذرائع مختلف ضروریات اور حالات کے مطابق توانائی کے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔












