نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارت کو 2047 تک جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 100 گیگا واٹ تک بڑھانے کے اپنے بلند ہدف کے حصول کے لیے مالیاتی قوانین پر نظرثانی اور ماہر افرادی قوت کی تیاری کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔بھارتی حکومت کے اعلیٰ پالیسی ادارے نیتی آیوگ کے رکن ابھے کرندیکر کے مطابق بھارت کے سرکاری سبز بانڈز، سبز ڈپازٹس اور دیگر مالیاتی ضوابط میں جوہری توانائی کے منصوبوں کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا، اس لیے ان قواعد پر نظرثانی ضروری ہے۔
بھارت نے گزشتہ سال اپنے طویل عرصے سے سخت حکومتی نگرانی میں موجود جوہری شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو ملک کے جوہری توانائی کے شعبے کی جانب راغب کرنا ہے۔بھارتی حکام کے مطابق موجودہ 8.8 گیگا واٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے تقریباً 210 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
ابھے کرندیکر نے نئی دہلی میں توانائی سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے بھی جوہری توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی بینک سمیت بعض بین الاقوامی اداروں نے جوہری منصوبوں کی معاونت کے لیے جائزہ عمل شروع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت ذمہ داریاں پوری کرے: ثالثی عدالت
تاہم بھارتی جوہری توانائی کے منصوبے کو صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ ماہر افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ صنعت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں صاف توانائی کے شعبے کو پہلے ہی تربیت یافتہ افراد کی قلت کا سامنا ہے اور جوہری شعبے میں یہ ضرورت مزید اہم ہے۔












