اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی تنظیم نو کا منصوبہ منظور کرلیا۔کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پہلے مرحلے کے لیے ریسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈسکوز کو مالی طور پر مستحکم، پیشہ ورانہ طور پر منظم اور جدید ڈیجیٹل نظام سے لیس کرنا ہے۔منظور شدہ منصوبے کے تحت تینوں کمپنیوں کے منتخب اثاثے، جن میں تمام زمینیں بھی شامل ہیں، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کے بعد از ریٹائرمنٹ فوائد اور متعلقہ فنڈز کا ایک بڑا حصہ حکومتِ پاکستان کی ملکیت میں قائم اسپیشل پرپز وہیکل کو منتقل کیا جائے گا۔
البتہ موجودہ ملازمین کے ریٹائرمنٹ فوائد بدستور متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس رہیں گے۔حکومت کے مطابق وفاقی اداروں کے درمیان واجبات اور ادائیگیوں کو باہمی ایڈجسٹ کرکے حکومت پاکستان کے ذمے واجب الادا رقوم کا تصفیہ کیا جائے گا۔ری اسٹرکچرنگ پلان کو مالی طور پر غیر جانبدار رکھا گیا ہے، جس کا مقصد حکومت کے لیے اثاثوں کی قدر میں اضافہ اور منصوبے کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھر میں 21 لاکھ سے زائد اسمارٹ بجلی میٹرز نصب، لیسکو سرفہرست
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ صارفین کے مفادات کا تحفظ ریگولیٹری نظام کے تحت جاری رہے گا، جبکہ بجلی کے ٹیرف نیپرا کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق طے اور حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی عمل کے ذریعے بجلی کی فراہمی میں قابلِ اعتماد سروس، کارکردگی اور صارفین کی سہولت میں نمایاں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہیں، اس لیے ان کمپنیوں کی کارکردگی بجلی کی قیمتوں میں کمی اور ملکی معیشت کے لیے زیادہ مسابقتی بجلی کی فراہمی کے حکومتی ہدف میں اہم کردار ادا کرے گی۔







