غزہ ( پاک ترک نیوز) غزہ میں جاری جنگ اور شدید غذائی بحران کے باوجود مقامی سطح پر بیجوں کے تحفظ اور تقسیم کا منصوبہ جاری ہے۔غزہ کے علاقے القرارہ سے تعلق رکھنے والے 71 سالہ زرعی ماہر عائش محنہ نے 2017 میں سیڈ بینک قائم کیا تھا، تاہم جنگ کے دوران ان کا گھر، زرعی زمین، زیتون کے درخت اور بیجوں کا ذخیرہ تباہ ہوگیا۔2024 میں بے گھر ہونے کے بعد محنہ اور ان کی بیٹی حنادی نے دیر البلح میں دوبارہ سیڈ بینک کا کام شروع کیا۔
سیڈ بینک میں مقامی گندم، بھنڈی، پالک اور دیگر سبزیوں کے بیج محفوظ کیے جارہے ہیں۔ منصوبے کا مقصد ایسے مقامی بیجوں کو محفوظ کرنا ہے جو غزہ کے موسمی حالات کے مطابق زیادہ بہتر طور پر پیدا ہوسکتے ہیں۔محنہ کے مطابق مقامی بیج خشک سالی، پھپھوندی اور کیڑوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتے ہیں اور جنگ کے دوران یہی بیج کسانوں کے لیے اہم سہارا ثابت ہوئے۔سیڈ بینک سے بیج فلسطینی کسانوں اور خاندانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، جو فصل کی کٹائی کے بعد اتنی ہی مقدار واپس کرتے ہیں۔ اس منصوبے سے اب تک تقریباً 200 کسان فائدہ اٹھا چکے ہیں۔دوسری جانب غزہ میں غذائی بحران بدستور سنگین ہے۔ رپورٹ کے مطابق 12 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پانی کی قلت، زمین کی تباہی، بارودی مواد اور زرعی ضروریات کی محدود دستیابی نے کاشت کاری کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف 35 جنگی طیارے کی قیمت 12 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی
جنگ سے پہلے سیڈ بینک میں مقامی بیجوں کی تقریباً 42 اقسام موجود تھیں، تاہم اب یہ تعداد کم ہوکر 28 رہ گئی ہے۔موسمیاتی تبدیلی بھی منصوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، شدید گرمی کے باعث بیج خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے جبکہ فصلوں کی بوائی میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔اس کے باوجود سیڈ بینک نے اب تک تقریباً ڈھائی ٹن بیج جمع کرلیے ہیں۔ منصوبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مقامی بیجوں کا تحفظ نہ صرف غزہ کے کسانوں کو سہارا دے رہا ہے بلکہ فلسطینی زرعی ورثے اور خوراک میں خود انحصاری کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی ہے۔












