ریاض ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا بڑا زلزلہ آ چکا ہے جس نے دنیا بھر کی ملٹری پاورز کو ہللا کر رکھ دیا ہے۔ کیا امریکہ نے سعودی عرب کو دنیا کا سب سے خطرناک اور جدید ترین F-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ 24 ارب ڈالر کی ایسی ڈیل جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی… آخر F-35 میں ایسا کیا ہے جس سے دشمنوں کی کاپیں ٹانگ رہی ہیں؟ آئیے جانتے ہیں اس ویڈیو میں!”
جی ہاں ناظرین !
امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 جدید F-35 لائٹننگ ٹو (F-35 Lightning II) جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس پورے پیکیج کی کل مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیکیج میں نہ صرف 48 طیارے شامل ہیں بلکہ 49 سپر پاور انجن، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، اور انتہائی جدید ایڈوانسڈ آلات بھی فراہم کیے جائیں گے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف پینتیس طیارہ اتنا خطرناک کیوں ہےغائب ہونے کی صلاحیت: یہ طیارہ ‘اسٹیلتھ ٹیکنالوجی’ سے لیس ہے، یعنی دشمن کے بڑے سے بڑے ریڈار بھی اسے سکرین پر نہیں دیکھ سکتے!اڑتا ہوا کمانڈ سینٹر: یہ صرف ایک جہاز نہیں بلکہ ایک سپر کمپیوٹر ہے جو فضا میں موجود باقی تمام جیٹس کو کنٹرول کر سکتا ہے۔بے رحم نشانہ: نظروں سے اوجھل رہ کر سینکڑوں کلومیٹر دور اپنے ہدف کو پلک جھپکتے میں تباہ کر دینا اس کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے!””ناظرین! اب تک پوری مڈل ایسٹ میں صرف ‘اسرائیل’ ہی وہ واحد ملک تھا جس کے پاس F-35 طیارے موجود تھے، لیکن سعودی عرب کو یہ جیٹس ملنے کے بعد خطے کا ملٹری توازن مکمل طور پر بدلنے جا رہا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب کی فضائی حدود اب ناقابلِ تسخیر بن جائیں گی۔ تاہم… اس معاہدے کی آخری رکاوٹ ابھی باقی ہے اور وہ ہے امریکی کانگریس، جہاں اس سودے پر شدید بحث ہونے کا امکان ہے!”
یہ بھی پڑھیں: ہیریئر سے ایف 35 پر منتقل ہونے والے میرین پائلٹس کو پرانی مہارتیں بھلانا پڑ گئیں
"کیا امریکی کانگریس اس تاریخی معاہدے کو منظور کرے گی؟ اور کیا F-35 ملنے کے بعد سعودی عرب دنیا کی طاقتور ترین ایئر فورسز میں شامل ہو جائے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں! اگر ویڈیو پسند آئی ہو تو چینل کو سبسکرائب اور لائک کرنا مت بھولیے گا۔ ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں!”











