اسلام آباد (پاک ترک نیوز )حکومت نے پاکستان اور سویڈن کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ ختم کرنے کے نوٹس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ آف انویسٹمنٹ نے معاملہ حالیہ وفاقی کابینہ اجلاس میں پیش کیا، جہاں ارکان نے معاہدہ ختم کرنے کے نوٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
کابینہ نے نوٹس کے اجراء کی وجوہات اور منظوری کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے وزیر تجارت جام کمال خان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔
پاکستان اور سویڈن کے درمیان یہ سرمایہ کاری معاہدہ 1981 میں طے پایا تھا جبکہ معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس 29 ستمبر 2026 سے مؤثر ہونا تھا۔
کابینہ ارکان کا مؤقف تھا کہ سویڈن کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ سفارتی اور معاشی تعلقات اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر ممکنہ منفی اثرات کے پیش نظر نوٹس کو مؤثر ہونے سے پہلے واپس لیا جانا چاہیے۔
کابینہ نے متفقہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس منسوخ کرنے اور سویڈن کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی منظوری دے دی، تاکہ معاہدے کو جدید تقاضوں اور پاکستان کی موجودہ سرمایہ کاری پالیسی کے مطابق بنایا جاسکے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی یہ بھی تعین کرے کہ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کن حقائق اور وجوہات کی بنیاد پر اور کس کی منظوری سے کیا گیا۔
کمیٹی مستقبل میں ایسے معاہدوں کے خاتمے سے قبل اختیار کیے جانے والے طریقہ کار اور تفصیلی رہنما اصول بھی تیار کرے گی۔
حکومت نے پاکستان کی 2021 کی دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدوں کی حکمت عملی کے تحت 25 ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری معاہدوں کے خاتمے کے نتائج کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
کمیٹی عالمی معاشی حالات کے تناظر میں پاکستان کی نئی دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدوں کی پالیسی کا مسودہ تیار کرے گی، جس میں سرمایہ کاری کے تحفظ، مساوی سلوک، پسندیدہ ترین ملک کے اصول اور سرمایہ کاری تنازعات کے حل جیسے امور شامل ہوں گے۔
وزیراعظم نے بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے خصوصی ماہرین کی بھرتی سمیت ادارے کی تنظیم نو کا جامع منصوبہ بھی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم بڑھایا جاسکے۔












