کابل ( پاک ترک نیوز) حکومت پنجاب کی طرف سے ملک بدر کیے گئے افغانیوں کے بارے میں ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر26لاکھ89ہزار253افغانیوں کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے۔ تاکہ پاکستان میں دہشت گردی ، خودکش حملوں اورمنشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے مراکز کو توڑا جا سکے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ان تقریباً 27 لاکھ افراد میں سے لگ بھگ 14 لاکھ کو صرف صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے واپس بھیجا گیا ہے۔ پاکستان گذشتہ چار دہائیوں سے40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔اور اسے بہت زیادہ تعداد میں غیر قانونی افغانوں کو اپنے ہاں برداشت کرنا پڑا ہے۔
مگر حالیہ برسوں میںافغانستان سے پاکستان کی جانب دہشت گردی ،خود کش حملو ں اور منشیات کی اسمگلنگ میں تیزی سے اضافے کے بعد اب حکومت پاکستان نے 2023 سے افغان مہاجرین، خصوصاً غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم افغانوں کو انکے ملک واپس بھیجنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے کا موقف ہے کہ جن افغانیوں کو اپنے ملک میں خطرات ہیں انہیں ملک بدر نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین پر 9 ارب 80 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ
بتایا گیا ہے کہ جن افغانیوں کے پاس دستاویزات کی کوئی صورت نہیں انہیں پاکستان میں رہنے کا حق نہیں دیا جا سکتا، خصوصا ایسے حالات میں جب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغانی شامل ہوں۔
پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق غیر قانونی طور پر موجود افغانیوں کو ملک بدر کرنے سے پہلے پولڈنگ سنٹرز میں عارضی طور پر رکھا جاتا ہے۔ اس وقت 39 ایسے سنٹرز کام کر رہے ہیں۔ جن میں 188 افغانی موجود ہیں۔ یاد رہے پاکستان نے یہ مہم اکتوبر 2023 میں شروع کی تھی۔ طالبان رجیم افغان شہریوں کو واپس بھیجے جانے پر نالاں ہے۔







