اسلام آباد (پاک ترک نیوز )حکومت نے گیس کے موجودہ 12 سلیب پر مشتمل ٹیرف نظام ختم کرکے تمام صارفین کے لیے یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کی تیاری شروع کردی۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے گیس ٹیرف اصلاحات کے لیے تجاویز تیار کرلی ہیں، جن کے تحت اوسط گیس ٹیرف ایک ہزار 708 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
نئے نظام میں محفوظ اور کم آمدن والے صارفین کو کم نرخ پر گیس فراہم کرنے کے بجائے آمدن کی بنیاد پر براہِ راست مالی معاونت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہدفی سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے ہدفی سبسڈی کے لیے 162 ارب روپے جاری کرنے کی سمری متعلقہ فورم کو بھجوا دی ہے۔
مجوزہ یکساں ٹیرف کا اطلاق گھریلو صارفین کے ساتھ سی این جی، سیمنٹ، کمرشل اور صنعتی صارفین پر بھی ہوگا۔ اس اقدام سے زیادہ نرخ ادا کرنے والے صنعتی، کمرشل اور سیمنٹ صارفین کو نمایاں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ نظام میں مختلف صارفین سے تقریباً 160 ارب روپے کی کراس سبسڈی حاصل کی جاتی ہے، جس کے ذریعے کم نرخ پر گیس استعمال کرنے والے صارفین کو سہولت دی جاتی ہے۔ نئے نظام میں کراس سبسڈی ختم کرکے آمدن کی بنیاد پر مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے نئے گیس ٹیرف نظام کو جنوری 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ اس معاملے کو ستمبر اور اکتوبر 2026 میں آئی ایم ایف کے چوتھے جائزے کے دوران بھی زیرِ بحث لائے جانے کا امکان ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے گیس و ایندھن کے پرانے واجبات، ایل این جی ٹیرف، ایف بی آر میں زیرِ التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز اور گیس چوری و نقصانات سے متعلق معاملات حل کرنے کے لیے بھی اقدامات کی سفارش کی ہے۔












