واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا نے توانائی اور بحری تجارت کے شعبے میں ایک نئی سمت کی جانب قدم بڑھا دیا۔۔سمندر میں تیرتے ایٹمی بجلی گھر۔۔ اور جوہری توانائی سے چلنے والے تجارتی بحری جہاز کی تیاری پر غور شروع کر دیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں بندرگاہیں صرف بحری تجارت کا مرکز نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کے مراکز بھی بن جائیں گی؟
امریکا میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے تجارتی اور بحری استعمال کی جانب اہم پیش رفت سامنے آگئی۔۔ٹیکساس کی پورٹ آف کارپس کرسٹی اور جوہری بحری ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنی کور پاور کے درمیان مفاہمتی معاہدہ طے پاگیا، جس کے تحت بندرگاہ میں سمندری جوہری ٹیکنالوجی کے مستقبل کا جائزہ لیا جائے گا۔مطالعے میں خاص طور پر دو اہم امکانات پر غور ہوگا۔پہلا۔۔ سمندر میں تیرتا ہوا ایٹمی بجلی گھر۔ایسا پلانٹ بندرگاہ اور قریبی علاقوں کو مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرسکتا ہے۔دوسرا۔۔ جوہری توانائی سے چلنے والے تجارتی بحری جہاز۔مطالعے میں یہ دیکھا جائے گا کہ مستقبل میں ایسے جہازوں کے لیے بندرگاہ میں داخلے، لنگراندازی اور معمول کی سرگرمیوں کے لیے کس قسم کے حفاظتی اور انتظامی اقدامات درکار ہوں گے۔
پورٹ حکام کے مطابق توانائی اور عالمی تجارت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے آج سے تیاری ضروری ہے۔کور پاور کے مطابق تیرتے ایٹمی بجلی گھروں کے لیے موزوں مقامات، بجلی کے گرڈ سے رابطے، ماحولیاتی تقاضوں، ریگولیٹری منظوری اور طویل مدتی آپریشن کا جائزہ لیا جائے گا۔جبکہ جوہری تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بحری راستوں، بندرگاہ میں داخلے اور لنگراندازی کے قابلِ اعتماد نظام پر توجہ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے طاقتور ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں کون سب سے آگے؟
امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن بھی اس عمل کا حصہ ہے۔ پورٹ آف کارپس کرسٹی اتھارٹی کے مطابق امریکی بندرگاہوں میں تیرتے ایٹمی بجلی گھروں اور سول جوہری بحری جہازوں کی ممکنہ میزبانی کے لیے تکنیکی، ماحولیاتی اور حفاظتی تقاضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔تاہم۔۔ ابھی یہ منصوبہ صرف ابتدائی مطالعاتی مرحلے میں ہے۔نہ کسی مخصوص مقام کا انتخاب ہوا ہے۔۔نہ کسی ری ایکٹر ٹیکنالوجی یا کمپنی کی منظوری دی گئی ہے۔۔نہ تعمیر یا سرمایہ کاری کا فیصلہ ہوا ہے۔۔اور نہ ہی جوہری بجلی گھر یا جوہری تجارتی جہازوں کی تعیناتی کی اجازت دی گئی ہےیعنی امریکا فی الحال ایٹمی بحری مستقبل کا نقشہ تیار کر رہا ہے۔۔
اگر یہ ٹیکنالوجی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو آنے والے برسوں میں سمندر میں صرف بحری جہاز ہی نہیں۔۔ تیرتے ہوئے ایٹمی بجلی گھر بھی دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرتے نظر آسکتے ہیں۔












