لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا میں فوجی طاقت کا توازن صرف میزائلوں، لڑاکا طیاروں یا جدید ہتھیاروں سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ سمندر میں موجود ایسے دیوہیکل طیارہ بردار بحری جہاز بھی کسی ملک کی عسکری طاقت کی اہم علامت ہیں، جو اپنے ساتھ درجنوں جنگی طیارے لے کر ہزاروں کلومیٹر دور تک کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دنیا کے طاقتور ترین ایئرکرافٹ کیریئرز کی نئی درجہ بندی جاری کر دی گئی، جس میں امریکا بدستور سب سے آگے ہے، جبکہ چین تیزی سے اپنی بحری طاقت بڑھا رہا ہے۔ بھارت، برطانیہ، فرانس اور جاپان بھی اس فہرست میں نمایاں ہیں۔
اس فہرست میں پہلے نمبر پر امریکا کا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ موجود ہے۔تقریباً ایک لاکھ ٹن وزنی اور 337 میٹر طویل یہ ایئرکرافٹ کیریئر دو ایٹمی ری ایکٹرز سے چلتا ہے اور 30 ناٹ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے۔اس کی سب سے بڑی خاصیت جدید برقی کیٹپلٹ نظام ہے، جو جنگی طیاروں کو انتہائی تیزی سے فضا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فورڈ کلاس کیریئر کو ایک دن میں 160 پروازیں مسلسل ایک ماہ تک آپریٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر ایک دن میں 270 تک پروازیں بھی کی جا سکتی ہیں۔دوسرے نمبر پر امریکا ہی کا نِمِٹز کلاس ہے۔اس کلاس کے دس ایئرکرافٹ کیریئرز امریکی بحری طاقت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ایک نِمِٹز کلاس جہاز تقریباً 97 ہزار ٹن وزنی اور 333 میٹر طویل ہے اور اس پر 60 سے 70 تک طیارے موجود ہو سکتے ہیں۔
تیسری پوزیشن چین کے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز فوجیان نے حاصل کی ہے۔چین نے فوجیان کو نومبر 2025 میں اپنے بحری بیڑے کا حصہ بنایا۔یہ جے 15 ٹی اور جدید جے 35 جنگی طیاروں کے علاوہ کے جے 600 نگرانی طیارے بھی آپریٹ کر سکتا ہے۔چوتھے نمبر پر برطانیہ کا کوئین الزبتھ کلاس ہے۔ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ اور ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز اس کلاس کے دو طیارہ بردار بحری جہاز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ میں ڈریجنگ منصوبہ مکمل، بڑے بحری جہازوں کی آمد کی راہ ہموار
یہ تقریباً 65 ہزار ٹن وزنی ہیں اور ایف 35 بی جنگی طیارے آپریٹ کرتے ہیں۔پانچویں پوزیشن فرانس کے ایٹمی طاقت سے چلنے والے چارلس ڈیگال کو دی گئی ہے۔یہ تقریباً 42 ہزار 500 ٹن وزنی ہے اور امریکا کے علاوہ دنیا کا واحد ایٹمی طیارہ بردار بحری جہاز ہے جو فکسڈ ونگ ریڈار طیارے آپریٹ کرتا ہے۔اس کے فضائی بیڑے میں رافیل ایم جنگی طیارے اور ای ٹو سی ہاک آئی نگرانی کے طیارے شامل ہیں۔چھٹے نمبر پر چین کا شان ڈونگ، ساتویں نمبر پر امریکا کے یو ایس ایس امریکا اور یو ایس ایس ٹرپولی، آٹھویں نمبر پر چین کا لیاؤننگ، نویں نمبر پر بھارت کا آئی این ایس وکرانت جبکہ دسویں پوزیشن جاپان کے ازومو کلاس کے بحری جہازوں کو دی گئی ہے۔
بھارت کا آئی این ایس وکرانت تقریباً 45 ہزار ٹن وزنی ہے اور مستقبل میں فرانسیسی رافیل ایم طیاروں کی شمولیت سے اس کی جنگی صلاحیت مزید بڑھنے کی توقع ہے۔












