واشنگٹن:(پاک ترک نیوز)دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کو خلا میں مزید ہزاروں سیٹلائٹس بھیجنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کے بعد خلائی سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کی اس منظوری کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے مستقبل میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ممکنہ منفی اثرات پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) نے اسپیس ایکس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسٹارلنک نیٹ ورک کے لیے سیکنڈ جنریشن کے 15 ہزار سیٹلائٹس تعینات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایلون مسک کی عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کو نمایاں وسعت حاصل ہو جائے گی، جس سے دنیا کے دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔
ایف سی سی کی منظوری کے مطابق ان نئے سیٹلائٹس میں سے تقریباً 7 ہزار 500 سیٹلائٹس پہلے سے منظور شدہ نیٹ ورک میں شامل کیے جائیں گے۔ یہ سیٹلائٹس 10.7 سے 30 گیگا ہرٹز کے مختلف فریکوئنسی بینڈز پر کام کریں گے اور زمین کے نسبتاً کم مدار، یعنی تقریباً 340 کلومیٹر کی بلندی پر نصب کیے جائیں گے۔
امریکی ریگولیٹری ادارے نے اسپیس ایکس کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ کم از کم نصف سیٹلائٹس بروقت لانچ کرے اور دیگر سیٹلائٹ آپریٹرز کے ساتھ رابطہ رکھے تاکہ سگنلز میں مداخلت کے امکانات کم سے کم کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام خلائی ٹریفک کے نظم و ضبط کے لیے ضروری ہے۔اس منظوری کے بعد اسٹارلنک کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں متعارف کرائے گئے 42 اعشاریہ 45 بلین ڈالر کے براڈ بینڈ ایکویٹی پروگرام میں شمولیت کا موقع بھی مل جائے گا، جس کا مقصد امریکا اور دیگر خطوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم ایف سی سی نے 600 کلومیٹر سے زائد بلند مدار میں سیٹلائٹس تعینات کرنے کی اجازت فی الحال مؤخر کر دی ہے۔
دوسری جانب خلائی سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں سیٹلائٹس کی موجودگی خلا میں ملبے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، جو مستقبل میں دیگر سیٹلائٹس اور خلائی مشنوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک سیٹلائٹس سورج کی روشنی منعکس کرتے ہیں، جس کے باعث آپٹیکل ٹیلی اسکوپس کے مشاہدات متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں آسمان پر روشن دھبے نمایاں ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ریڈیو فلکیات کے شعبے میں بھی مشکلات سامنے آ رہی ہیں، کیونکہ سیٹلائٹس کے سگنلز کائناتی ریڈیائی لہروں میں خلل ڈال سکتے ہیں، جس سے دور دراز کائنات کے کمزور سگنلز چھپ جانے کا خدشہ ہے۔
اسپیس ایکس نے ان خدشات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر فعال سیٹلائٹس کو زیادہ سے زیادہ تین سال کے اندر مدار سے ہٹا دیا جائے گا تاکہ خلائی ملبے کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف امریکا کی خلائی ٹیکنالوجی میں برتری کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل رابطوں کو بھی نئی جہت دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ مستقبل کی ضرورت بنتا جا رہا ہے، تاہم خلا میں توازن اور سائنسی تحقیق کے تحفظ کے لیے سخت عالمی ضابطوں کی فوری ضرورت ہے۔












