بدھ , 22 جولائی , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
پاک ترک نیوز
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
Home تازہ ترین

ایلون مسک کیلئے 15 ہزار نئے سیٹلائٹس کی منظوری، خلائی ماہرین کا انتباہ

6 مہینے پہلے
A A
ایلون مسک کیلئے 15 ہزار نئے سیٹلائٹس کی منظوری، خلائی ماہرین کا انتباہ
Share on Facebookwhatsapp

واشنگٹن:(پاک ترک نیوز)دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کو خلا میں مزید ہزاروں سیٹلائٹس بھیجنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کے بعد خلائی سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کی اس منظوری کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے مستقبل میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ممکنہ منفی اثرات پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) نے اسپیس ایکس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسٹارلنک نیٹ ورک کے لیے سیکنڈ جنریشن کے 15 ہزار سیٹلائٹس تعینات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایلون مسک کی عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کو نمایاں وسعت حاصل ہو جائے گی، جس سے دنیا کے دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔
ایف سی سی کی منظوری کے مطابق ان نئے سیٹلائٹس میں سے تقریباً 7 ہزار 500 سیٹلائٹس پہلے سے منظور شدہ نیٹ ورک میں شامل کیے جائیں گے۔ یہ سیٹلائٹس 10.7 سے 30 گیگا ہرٹز کے مختلف فریکوئنسی بینڈز پر کام کریں گے اور زمین کے نسبتاً کم مدار، یعنی تقریباً 340 کلومیٹر کی بلندی پر نصب کیے جائیں گے۔
امریکی ریگولیٹری ادارے نے اسپیس ایکس کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ کم از کم نصف سیٹلائٹس بروقت لانچ کرے اور دیگر سیٹلائٹ آپریٹرز کے ساتھ رابطہ رکھے تاکہ سگنلز میں مداخلت کے امکانات کم سے کم کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام خلائی ٹریفک کے نظم و ضبط کے لیے ضروری ہے۔اس منظوری کے بعد اسٹارلنک کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں متعارف کرائے گئے 42 اعشاریہ 45 بلین ڈالر کے براڈ بینڈ ایکویٹی پروگرام میں شمولیت کا موقع بھی مل جائے گا، جس کا مقصد امریکا اور دیگر خطوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم ایف سی سی نے 600 کلومیٹر سے زائد بلند مدار میں سیٹلائٹس تعینات کرنے کی اجازت فی الحال مؤخر کر دی ہے۔
دوسری جانب خلائی سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں سیٹلائٹس کی موجودگی خلا میں ملبے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، جو مستقبل میں دیگر سیٹلائٹس اور خلائی مشنوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک سیٹلائٹس سورج کی روشنی منعکس کرتے ہیں، جس کے باعث آپٹیکل ٹیلی اسکوپس کے مشاہدات متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں آسمان پر روشن دھبے نمایاں ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ریڈیو فلکیات کے شعبے میں بھی مشکلات سامنے آ رہی ہیں، کیونکہ سیٹلائٹس کے سگنلز کائناتی ریڈیائی لہروں میں خلل ڈال سکتے ہیں، جس سے دور دراز کائنات کے کمزور سگنلز چھپ جانے کا خدشہ ہے۔
اسپیس ایکس نے ان خدشات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر فعال سیٹلائٹس کو زیادہ سے زیادہ تین سال کے اندر مدار سے ہٹا دیا جائے گا تاکہ خلائی ملبے کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف امریکا کی خلائی ٹیکنالوجی میں برتری کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل رابطوں کو بھی نئی جہت دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ مستقبل کی ضرورت بنتا جا رہا ہے، تاہم خلا میں توازن اور سائنسی تحقیق کے تحفظ کے لیے سخت عالمی ضابطوں کی فوری ضرورت ہے۔

موضوعات : Elon Muskstarlinktechnology
ShareSend

متعلقہ خبریں

Controversial Telecom Bill Committee report ready
اہم ترین 2

متنازع ٹیلی کام بل ،کمیٹی کی رپورٹ تیار

24 جون , 2026
China expresses anger over inclusion of technology companies on US military list
تازہ ترین

ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکی فوجی فہرست میں شامل کرنے پر چین کا اظہار برہمی

15 جون , 2026
Pakistan's modern stealth aircraft under discussion, causing uproar in defense circles
تازہ ترین

پاکستان کا جدید سٹیلتھ طیارہ زیر بحث ،دفاعی حلقوں میں ہلچل

10 جون , 2026
Pakistan to Buy Baykar's UCAV Kızılelm
تازہ ترین

پاکستان کا ترکیہ سے بغیر پائلٹ لڑاکا جہاز کزیلیلما خریدنے پر غور

1 جون , 2026
Ban on sale of mobile SIMs from 12 midnight to 6 am
تازہ ترین

رات 12سے صبح 6بجے تک موبائل سمز کی فروخت پر پابندی

21 مئی , 2026
Turbojet engine-powered drone with a range of up to 250 km
تازہ ترین

250کلومیٹر تک مار کرنے والا ٹربو جیٹ انجن سے چلنے والا ڈرون تیار

11 مئی , 2026
اگلی خبر
ہیک ہونے والا واٹس ایپ اکاؤنٹ واپس لینے کا طریقہ

ہیک ہونے والا واٹس ایپ اکاؤنٹ واپس لینے کا طریقہ

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور یورپی یونین کا شراکت داری مزید مضبوط بنانےکا عزم

پاکستان اور یورپی یونین کا شراکت داری مزید مضبوط بنانےکا عزم

22 جولائی , 2026
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکا سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے،ایران

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکا سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے،ایران

22 جولائی , 2026
مقبوضہ کشمیر میں بارشیں ،بھارت نے سیلابی ریلا پاکستان کی طرف چھوڑ دیا

مقبوضہ کشمیر میں بارشیں ،بھارت نے سیلابی ریلا پاکستان کی طرف چھوڑ دیا

22 جولائی , 2026
حکومت سے مذاکرات کامیاب،پٹرول پمپ اونر ایسوسی ایش کا ہڑتال موخر کرنے کااعلان

حکومت سے مذاکرات کامیاب،پٹرول پمپ اونر ایسوسی ایش کا ہڑتال موخر کرنے کااعلان

22 جولائی , 2026
China's advanced Y-9 anti-submarine aircraft has been unveiled.

چین کا جدید آبدوز شکن طیارہ Y-9منظر عام پر آ گیا

22 جولائی , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

فیس بک ٹویٹر انسٹاگرام یوٹیوب

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Urdu
English