بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کا توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں نیا انقلاب؟ 16 سال تک چلنے والی بیٹری تیار کر لی ، ، آل آئرن فلو بیٹری چھ ہزار چارج سائیکلز یعینی سولہ سال تک بغیر خرابی کے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور یہ لیتھیم بیٹری کے مقابلے میں بہت کم لاگت میں تیار کی جا سکتی ہے۔
آئرن کی قیمت موجودہ مارکیٹ میں لیتھیم کے مقابلے میں تقریباً 80 گنا کم ہے. نیا الیکٹرولائٹ بریک تھرو اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بنا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
یہ نیا نظام ایک خاص الیکٹرولائٹ کی بدولت ہزاروں چارج سائیکلز برداشت کر سکتا ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس طریقے سے مواد کے خراب ہونے اور لیکیج جیسے مسائل حل کیے گئے ، کیونکہ آئرن کو سالماتی سطح پر بہتر بنایا گیا ہے۔
چین نے 2025 میں دنیا کی 80 فیصد سے زائد لیتھیم آئن بیٹریاں تیار کیں اور توانائی ذخیرہ کرنے والی بیٹری مارکیٹ کے تقریباً 90 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ، جس سے مغربی ممالک کے لیے سپلائی چین اور جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھ گئے
2024 سے 2025 کے دوران لیتھیم آئن بیٹری مارکیٹ 20 فیصد بڑھ کر 150 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سپلائی چین کے خطرات اور جغرافیائی سیاسی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ چین اکیلا 80 فیصد سے زائد عالمی لیتھیم آئن بیٹریاں تیار کرتا ہے۔
لیتھیم کے استعمال میں کچھ نقصانات بھی ہیں، جیسے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے خطرات۔ اگرچہ یہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یہ طویل مدتی توانائی ذخیرہ کے لیے مکمل طور پر مثالی نہیں، کیونکہ یہ زیادہ تر چار گھنٹے تک توانائی محفوظ رکھ سکتی ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کے لیے طویل مدتی اسٹوریج کی ضرورت ہوتی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریاں اگرچہ اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور الیکٹرک گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں،لیکن طویل مدتی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے ان کی صلاحیت محدود ہے، ۔اسی وجہ سے متبادل بیٹری ٹیکنالوجیز کی ضرورت بڑھ گئی ہے چین اس شعبے میں بھی پیش رفت کر رہا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق چینی سائنسدانوں نے آل آئرن فلو بیٹری میں اہم پیشرفت کی ہے، جو کم لاگت میں طویل مدتی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔












