
از: سہیل شہریار
پاکستان اپنی فضائیہ اور بحریہ کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئےترکیہ کی ڈرونز بنانے والی کمپنی بائیکر ٹیکنالوجیز سے اس کا بغیر پائلٹ کے جدید لڑاکا جہاز کزیلیلما خریدنےپرغور کر رہا ہے۔ — جو پاکستان کو اس کی اگلی نسل کے بغیر پائلٹ کے جنگی اسٹیک پر خود مختار کنٹرول فراہم کرے گا۔جس میں خودمختار سینسرز، مقامی ڈیٹا لنکس، مقامی طور پر مربوط ہتھیاراور الیکٹرونک وار فئیر سوٹ شامل ہیں۔
اس ضمن میں مئی کے آخر میں پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا ترکیہ کادورہ انتہائی اہم ہے۔ جہاں کزیلیلما کے ساتھ انکی ایک تصویرکہی ان کہی سب کہانیاں بیان کر رہی ہے۔
پاک فضائیہ کا بائیکرٹیکنالوجیز سے ایک دہائی سے زیادہ پراناتعلق ہےاور وہ کمپنی کے انچی اور ٹی بی 2ڈرونز استعمال کر رہی ہے۔جبکہ بائیکر ٹیکنالوجیز کا ایک ذیلی ادارہ بائریکٹرٹیکنالوجی پاکستان ملک کے اندرقائم ہے۔اور تحقیق و ترقی کے کئی اہم منصوبوں میں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (این اے ایس ٹی پی) کے ساتھ مل کرکام کررہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیکر ٹیکنالوجیز عام کمپنیوں سے مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔ کمپنی ایئر فریم بناتی ہے۔مگر اہم ذیلی نظام جیسے اے ای ایس اے ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹم (ای او ٹی ایس)، الیکٹرونک وارفیئر سوٹ اور ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک یہ سب الگ الگ وینڈرزسے حاصل کئے جاتے ہیں۔ اسی سے پاک فضائیہ اور پاک بحریہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔اور بائیکر اور نیسٹپ کے اشتراک سے پاکستان کے مخصوص کزیلیلما ویریئنٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ جدید اے ای ایس اے ریڈار ، اگلی نسل کے ڈیٹا لنک، اور الیکٹرانک جنگی سوٹ کے ساتھ ہتھیاروں کو ضم کیا جا سکتا ہے۔
پاک بحریہ پہلے ہی اپنے شاہپر۔ 3 پروگرام کے ذریعے بغیر پائلٹ کے نظام میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور بحری ضرورت پر مبنی پے لوڈ تیار کر رہی ہے جس میںاغراق ہلکے وزن والے ٹارپیڈو، سونو بوائے پوڈز، او رطاقتورای ایس ایم سسٹم شامل ہیں۔ ایسے میں کزیلیلما کی بحری بیڑے میں شمولیت جو کروز میزائل جیسے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جنگی بحری جہازوں کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے کی قابل اعتبارطاقت فراہم کرے گا۔
پاک فضائیہ کا بائریکٹر کزیلیلما کے بارے میں نقطہ نظر تنہائی میں خریداری کا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع تر فلسفے کا حصہ ہےکہ انحصار پیدا کرنے والے بنے بنائے حل خریدنے کے بجائےاپنی ضرورت کے مطابق حل خود بنائے جائیں۔چنانچہ کزیلیلما پاک فضائیہ کے مستقبل میں اندرون ملک بنائے جانے والے جدید اے ای ایس اے ریڈار ، اگلی نسل کے ڈیٹا لنکس اور الیکٹرانک جنگی سوٹ کے لیےقابل اعتمادبنیاد بن جاتا ہے۔جو پی اے ایف کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں کامیابی سے جگہ بنا سکتا ہے۔












