لاہور( پاک ترک نیوز) خفیہ ایجنسیوں کی دنیا میں کامیاب آپریشنز جتنے اہم ہوتے ہیں، اتنی ہی بڑی اہمیت ان ناکامیوں کی بھی ہوتی ہے جنہوں نے عالمی سیاست اور انٹیلی جنس نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ سی آئی اے کی تاریخ میں بھی ایسے کئی واقعات موجود ہیں جہاں اندرونی غداری اور ڈبل ایجنٹس نے امریکی خفیہ نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔
سن 2009 میں افغانستان کے خوست میں واقع ایک امریکی اڈے پر ہونے والا خودکش حملہ انٹیلی جنس کی تاریخ کے بڑے سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ حملہ آور، اردنی ڈاکٹر خلیل البلوی، نے خود کو قیمتی مخبر ظاہر کیا تھا، مگر ملاقات کے دوران دھماکا کرکے سی آئی اے کے متعدد اہلکاروں کی جان لے لی۔
اسی طرح سابق سی آئی اے افسر ایلڈرچ ایمز کئی برس تک سوویت یونین کو امریکی خفیہ معلومات فراہم کرتا رہا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کی جاسوسی کے باعث متعدد خفیہ ذرائع بے نقاب ہوئے، جن میں سے کئی گرفتار یا ہلاک کر دیے گئے۔
دوسری جانب ایف بی آئی کے سابق اہلکار رابرٹ ہینسن بھی برسوں تک روس کو حساس معلومات منتقل کرتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک عرصے تک ان پر کسی کو شبہ نہ ہوا، یہاں تک کہ تحقیقات کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی دنیا میں سب سے بڑا خطرہ ہمیشہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ اندرونی رسائی رکھنے والا ایسا فرد بھی ہو سکتا ہے جو اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھائے۔ اسی لیے جدید خفیہ ادارے اب سائبر سیکیورٹی، داخلی نگرانی اور اہلکاروں کی مسلسل جانچ پر پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: براڈ پیک سانحہ: پانچ غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں اسکردو سے اسلام آباد منتقل
یہ واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ دنیا کی طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی انسانی غلطیوں، اعتماد کے غلط استعمال اور پیچیدہ جاسوسی نیٹ ورکس سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتیں۔









