نیویارک (پاک ترک نیوز) اگر واشنگٹن ایرانی ایٹمی پروگرام کو کنٹرول میںلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نقل وحرکت معمول پر آ جاتی ہے۔ تو اس صورت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
امریکہ سے شائع ہونے والے ایک بین الاقوامی جریدے کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے یہ انکشاف کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو امریکی انتظامیہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد کی گئی ناکہ بندی اٹھانے پر غور کرسکتی ہے۔
حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں کے دوران اپنے سینئر معاونین کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ گزشتہ سال امریکہ کی جانب سے تین اہم ایٹمی تنصیبات کو تباہ کیے جانے کے بعد ایران شاید ان کی صدارت کے دوران اپنے ایٹمی پروگرام کو دوبارہ فعال نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی صدر نے حالیہ اجلاسوں کے دوران زور دیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ان تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرنے یا خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کسی بھی ایرانی کوشش کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے امریکی حملوں کی دھمکی طویل مدتی بنیادوں پر ایک مؤثر رکاوٹ بنی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی قومی سیکورٹی کونسل کی تنظیم نو۔جنرل محسن رضائی سیکرٹری مقرر
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی توجہ اب آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی فراہمی کے بہاؤ کو یقینی بنانے پر منتقل ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تہران نے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا تو فوجی آپشن برقرار رہے گا۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تہران نے تازہ رابطوں میں چھ شرائط عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ عالمی سطح پر انتہائی اہم اس سمندری گزرگاہ کو کھولنے سے پہلے امریکہ کو ان کی پابندی کرنا ہوگی۔ تہران نے گزشتہ ہفتے کے روز موقف اپنایا تھا کہ آبنائے اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک واشنگٹن اپنا رویہ درست نہیں کرتا، ایران اور اس کے اتحادیوں (لبنان، فلسطین، یمن اور عراق) کے خلاف فوجی کارروائیاں ختم نہیں کرتا، ناکہ بندی اور پابندیاں نہیں ہٹاتا، ملک کے گرد و نواح سے امریکی فورسز کو واپس نہیں بلاتا، تاوان ادا نہیں کرتا اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال نہیں کرتا۔












