پیرس:(پاک ترک نیوز)پیرس کے مضافات میں قائم ایک یونیورسٹی میں جاسوسی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جسے سیکھنے خفیہ ایجنسوں کے اہلکار بھی آتے ہیں۔
اس یونیورسٹی کا نام سائنسز پو ہے۔ جہاں کے ایک کیمپس میں جاسوسی کی تعلیم مکمل کرنے والے اسٹوڈنٹس کو ڈپلومہ دیا جاتا ہے۔ اس کورس کا نام ’انٹیلی جنس اور عالمی خطرات‘ ڈپلومہ ہے۔
فرانسیسی جامعہ نے یہ کورس سیکرٹ سروسز کے تربیتی ادارے کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ جو تقریباً ایک دہائی قبل حکام کی درخواست پر شروع کیا تھا۔ ڈپلومہ کے لیے چار ماہ کے دوران 120 گھنٹے تک کلاس کا کام کرنا ہوتا ہے اور اس ڈپلومے کی فیس لگ بھگ فیس پانچ ہزار یورو ہے۔
کورس کا بنیادی مقصد اس بات کی تربیت دینا ہے کہ جہاں کہیں خطرہ ہو اس کی نشاندہی کی جائے، اس کا سراغ لگایا جائے اور اس پر قابو پایا جائے۔ کورس کے اہم موضوعات میں منظم جرائم، کاروباری مقاصد کے لیے انٹیلی جنس جمع کرنا، اور سیاسی تشدد وغیرہ شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں فرانس کے خفیہ اداروں میں توسیع ہوئی ہے اور اب 20 ہزار ایجنٹس اہم جگہوں پر پہنچ چکے ہیں۔
اس ڈپلومہ میں فرانس کے نجی شعبے کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو بڑے کاروباری اداروں میں نوکریاں مل چکی ہیں۔ اس کورس میں داخلہ لینے کے لیے فرانسیسی شہری ہونا ضروری ہے۔ اگرچہ کچھ دوہری شہریت رکھنے والوں کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے۔
جاسوسی کی تعلیم دینے والے ایک پروفیسر کریٹیےکا برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انھیں محتاط رہنا پڑتا ہے کیونکہ ان کو نہایت پُرکشش اسرائیلی اور روسی خواتین کی درخواستیں باقاعدگی سے موصول ہوتی ہیں،جن کو فوراً ہی مسترد کر دیا جاتا ہے‘
پروفیسر کریٹیےنے حیران کن اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے طالبعلموں میں سے زیادہ تر کا اصلی نام نہیں جانتے۔ ان کو شک ہے کہ جو انھیں بتائے جاتے ہیں شاید وہ اصلی نہ ہوں۔












