لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان ریلویز نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بڑے ڈیجیٹل تبدیلی پروگرام کا آغاز کر دیا ، جس کے تحت 1,700 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک نیٹ ورک اور اسمارٹ ریلوے سسٹمز متعارف کرائے جائیں گے تاکہ ملک بھر میں آپریشنز، فریٹ مینجمنٹ اور مسافروں کی سہولیات کو جدید بنایا جا سکے۔
یہ اقدام پاکستان ریلوے کے “ریلوے ایڈوانس انفراسٹرکچر نیٹ ورک پروگرام کا حصہ ہے، جسے ادارے کی تاریخ کا پہلا بڑا ریونیو فوکسڈ ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پروگرام کا مقصد ریلوے آپریشنز کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل نظام قائم کرنا اور مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان ریلوے 1,700 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک بیک بون قائم کرے گا۔
ان 1,700 کلومیٹر میں سے تقریباً 700 کلومیٹر فائبر انفراسٹرکچر پاکستان ریلوے کی ملکیت ہوگا، جبکہ مزید 1,000 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک کے تعاون سے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت تیار کیا جائے گا۔منصوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بینڈوڈتھ ٹرانسمیشن کا نظام بھی شامل ہے۔ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے اپنی 78 سالہ تاریخ کا پہلا مکمل ڈیجیٹل مینی فیسٹ سسٹم بھی متعارف کرائے گا۔ اس سے فریٹ آپریشنز مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائیں گے، جس سے ٹریکنگ، دستاویزی امور اور آپریشنل کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے انجنوں اور ریلوے کوچز کی نگرانی کے لیے GPS پر مبنی ٹریکنگ سسٹم بھی متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ مانیٹرنگ اور آپریشنل مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔












