
از: سہیل شہریار
نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان(این ڈی ایم پی) جدید طرز حکمرانی کے فریم ورک میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کو ایک سرکردہ ڈیجیٹل ملک میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔جس کے لئے ڈیجیٹائزیشن کے فروغ، ملک گیر سطح پر ڈیجیٹل رابطوں کے قیام، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اوراختراعی ماحولیاتی نظا م کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
آئی ٹی اور ٹیلی کام کی وزارت کی رپورٹ کے مطابق این ڈی ایم پی ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے، پبلک سیکٹر کی ڈیجیٹل سروسز کو مضبوط بنانے، محفوظ اور انٹرآپریبل ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو فعال کرنے اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے جو سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو یقینی بنائے گا۔ عوام ڈیجیٹل ماسٹر پلان سے سب سے زیادہ مستفید ہوں گے کیونکہ یہ انسانی مداخلت کو کم کرے گا اور سرکاری خدمات تک رسائی میں زیادہ آسانی پیدا کرے گا۔ این ڈی ایم پی پر عمل درآمد کے بعد شہری سرکاری دفاتر میں جانے کی ضرورت کے بغیر بنیادی عوامی خدمات اور سہولیات حاصل کر سکیں گے، اس طرح کارکردگی، شفافیت اور سہولت میں بہتری آئے گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے این ڈی ایم پی پر ایک اجلاس کے دوران سامنے آئی۔جس کے دوران بتایا گیا کہ این ڈی ایم پی ایک قومی فریم ورک کی نمائندگی کرتا ہے جو معیشت کے تمام شعبوں بشمول تعلیم، صحت، زراعت، ٹیکسیشن، سماجی تحفظ، توانائی، لاجسٹکس، اور عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور مربوط ڈیجیٹل تبدیلی کو یقینی بناتا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل این ڈی ایم پی پر تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ آئندہ مالی سال کے لیے ترجیحات، عمل درآمد کی تیاری اور موثر وسائل کی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس ضمن میں توقع کی جا رہی ہے کہ صوبائی حکومتیں بجٹ سے قبل این ڈی ایم پی پر وزارت آئی ٹی کے ساتھ اپنے تاثرات اور مشاورت کو حتمی شکل دیں گی۔ کیو نکہ بہتر بین الصوبائی تعاون سے ہی ہم آہنگ ڈیجیٹل نظام بنانے، خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے اور گورننس میں شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔












