
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش میں 12فروری کے پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تیزی سےخراب ہونے والے تعلقات بھارتی پنڈتوں کے لئے درد سر بن گئے ہیں ۔
پانچ دہائیوں سے ایک دوسرے کے قریبی اتحادی ہمسایہ ملکوں کے درمیان یہ دراڑ 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق رہنما شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد شدت اختیار کر گئی۔ جو بھارت فرار ہو گئی تھیں اور اب انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس آنے کے بجائے جلاوطنی میں رہنے پر ڈھاکہ کی تنقید کا سامنا ہے۔
بھارتی را اور عوامی لیگ کے کارندوں کے ہاتھوں یکے بعد دیگر دو طالب علم رہنماؤں کی شہادتوں کے بعد تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ویزا آپریشنز کو باہمی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، اور کھیلوں میں تناؤ پھیل گیا ہے، بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے بھارت کی انڈین پریمیئر لیگ کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور ورلڈ کپ کے میچوں کو غیر جانبدار مقامات پر منتقلی چاہتا ہے۔
بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے بھارت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ مگر بھارت کی ہندوتوا پرست مودی حکومت نے حسینہ کی حوالگی یا ان کی پارٹی کے رہنماؤں کو بھارتی سرزمین سے بنگلہ دیشی سیاست میں مداخلت سے روکنے کی درخواستوں سے انکار کردیا ہے۔ جبکہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر سیاسی موقع پرستی اور غلط معلومات کی مہم کا الزام لگایا ہے
بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر حملے انتخابی سیاست میں خاص طور پر مغربی بنگال اور آسام میں ایک فلیش پوائنٹ بن گئے ہیں۔
اس مرتبہ بنگکہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بظاہر دو سابقہ حلیفوںمرحومہ خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) اور جماعت اسلامی کے درمیان مقابلہ متوقع ہے ۔ کیونکہ ملک میں پہلی مرتبہ جماعت اسلامی اس جیسی دیگر قدامت پسند دینی جماعتوں کو عروج ملا ہے۔ تاہم 300پارلیمانی نشستوں پر ہونے والے انتخاب میں کامیابی کے لئے درکار 151نشستوں کی دوڑ میں بی این پی اپنی مد مقابل جماعتوں سے آگے ہے۔
عوامی لیگ کے بنگلہ دیش کی سیاست سے آؤٹ ہونے کے بعد ہندوستان بنگلہ دیش کے آنے والے انتخابات میں متوقع طور پر مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرنے جماعتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ جن میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سر فہرست ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلقات کی مخدوش حالت کے باوجود خالدہ ضیا کی وفات پرمرحومہ کے صاحبزادے طارق رحمان سے تعزیت کے لئے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکردوڑتے ہوئے ڈھاکہ پہنچے۔ مگر اسکا کیا ہو کہ بی این پی کا جھکاؤ ہمیشہ پاکستان کی جانب رہا ہے۔اور اس وقت دونوں بھائیوں کے تعلقات ہر آنے والے دن میں نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
بھارت کا درد سر یہ ہے کہ سیاسی تبدیلیوں، گھریلو دباؤ اور بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے اسلامی اور بھارت مخالف اثر و رسوخ کے درمیان ساڑھے چار ہزار کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد رکھنے والےتاریخی طور پر قریبی پڑوسی کے ساتھ تعلقات کوکیسے سنبھالا جائے۔












