نیویارک: (پاک ترک نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان شدید سفارتی تناؤ کھل کر سامنے آ گیا، جہاں دونوں جانب سے سخت اور غیر معمولی بیانات دیے گئے۔اجلاس میں امریکی نمائندے نے ایران میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے اقدامات کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ راستے زیرِ غور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر عوامی ردِعمل موجود ہے اور امریکا ان شہریوں کے بنیادی حقوق کی حمایت کرتا رہے گا۔ امریکی مندوب نے واضح کیا کہ موجودہ امریکی قیادت صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی موقف کے جواب میں ایرانی وفد نے سخت ردِعمل دیا۔ ایران کے نائب مستقل مندوب نے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کسی بھی قسم کی کشیدگی بڑھانے کا خواہاں نہیں، تاہم اگر اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایران میں حالات کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ بیرونی دباؤ اور مداخلت کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ ملک کو منظم تشدد اور دہشت گردی کا سامنا رہا ہے، جسے عالمی میڈیا میں یک طرفہ انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ایران دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں اور اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گا۔اجلاس کے دوران دیگر عالمی طاقتوں نے بھی امریکی پالیسی پر سوالات اٹھائے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے اور تمام تنازعات کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔
روسی نمائندے نے کہا کہ ایران کے خلاف خوف کی فضا پیدا کی جا رہی ہے اور بیرونی عناصر خطے میں عدم استحکام چاہتے ہیں۔
چین نے خبردار کیا کہ عالمی نظام میں طاقت کے زور پر فیصلے قبول نہیں کیے جا سکتے، جبکہ فرانس نے ایران میں گرفتار مظاہرین کے حوالے سے انسانی حقوق پر زور دیا۔سلامتی کونسل کے اس اجلاس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور ممکنہ خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب امریکا اور ایران کے اگلے اقدامات پر جمی ہوئی ہیں۔












