دبئ (پاک تر ک نیوز) دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والا دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ (ڈی ایکس بی) 2035 میں مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا، جبکہ اس کی تمام پروازیں اور آپریشنز نئے المکتوم بین الاقوامی ہوائی اڈے منتقل کر دیے جائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبئی حکومت 2032 سے مرحلہ وار منتقلی کا عمل شروع کرے گی، جو کئی برسوں میں مکمل ہوگا۔ اس دوران دبئی ساؤتھ میں واقع المکتوم بین الاقوامی ہوائی اڈے کو تقریباً 28 ارب پاؤنڈ کی لاگت سے توسیع دی جا رہی ہے تاکہ اسے دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بنایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق دبئی کی قومی فضائی کمپنیاں ایمریٹس اور فلائی دبئی سمیت تمام پروازیں نئے ہوائی اڈے سے چلائی جائیں گی۔
توسیعی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد المکتوم بین الاقوامی ہوائی اڈہ سالانہ 26 کروڑ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ نئے ہوائی اڈے میں پانچ رن وے اور 400 طیاروں کے لیے پارکنگ گیٹس قائم کیے جائیں گے، جس سے یہ موجودہ دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تقریباً پانچ گنا بڑا ہو جائے گا۔
دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے نے 30 ستمبر 1960 کو ایک مختصر ٹرمینل اور تقریباً 1,800 میٹر طویل رن وے کے ساتھ کام شروع کیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ دنیا کے اہم ترین فضائی مراکز میں شامل ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران اس ہوائی اڈے سے 9 کروڑ 52 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا، جبکہ یہ بین الاقوامی مسافروں کے اعتبار سے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں پی آئی اے کی پرواز میں ہنگامہ، مشتعل مسافر گرفتار
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ جب المکتوم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مطلوبہ استعداد مکمل ہو جائے گی تو دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تمام خدمات نئے ہوائی اڈے منتقل کر دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر دو بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے چلانا معاشی طور پر مناسب نہیں ہوگا، جبکہ اس وقت تک دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے بیشتر بنیادی ڈھانچے کی عمر بھی مکمل ہو چکی ہوگی، اس لیے اسے فعال رکھنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔












