اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چکری کے قریب پکڑے گئے مبینہ اسمگل شدہ سگریٹوں کے معاملے پر سینیٹرز کے نام سامنے آنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ ایف آئی اے کو واقعے کی تحقیقات کرنے اور آئی جی موٹروے پولیس کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے اکاؤنٹ میں 90 ارب روپے آ جائیں تو ایف بی آر آنکھیں بند کر لیتا ہے، لیکن سینیٹرز کی پگڑی کیوں اچھالی جاتی ہے، یہ رویہ قابل قبول نہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹر فیصل کے رشتہ داروں کے حوالے سے یہ خبر چلائی گئی کہ ان کے سگریٹ پکڑے گئے، ایف آئی اے فوری طور پر تحقیقات کرے کہ ایک سینیٹر کے خلاف یہ خبر کیوں نشر کی گئی اور اس کے پیچھے کون تھا۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ آج افسران کی کرسی زیادہ طاقتور ہو چکی ہے جبکہ سینیٹر کمزور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی یہ بات درست ہے کہ نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسٹم انسپکٹر کی تنخواہ تقریباً دو لاکھ روپے ہے، پھر ان کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں کہاں سے آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے نئے پراسکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑ نے چارج سنبھال لیا
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہے اور اس کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کاروباری افراد کو عزت دی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں انہیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ بے روزگاری کے باعث بعض لوگ اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ خبر نشر کرنے والے نجی ٹی وی چینل کو نوٹس جاری کرے اور وضاحت طلب کرے کہ یہ خبر کس کے کہنے پر نشر کی گئی۔
دوسری جانب ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ میڈیا رپورٹ کا ایف بی آر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے آئی جی موٹروے پولیس کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔







