لاہور( پاک ترک نیوز) ناظرین، ڈرائیونگ کے دوران اچانک ڈیش بورڈ پر فیول وارننگ لائٹ روشن ہو جائے تو اکثر لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گاڑی اب کسی بھی لمحے رک سکتی ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔
آٹو ماہرین کے مطابق یہ وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹینک میں ایندھن کم رہ گیا ہے، نہ کہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ زیادہ تر گاڑیوں میں یہ لائٹ اس وقت آن ہوتی ہے جب ٹینک میں چند لیٹر فیول باقی ہوتا ہے، تاکہ ڈرائیور کو بروقت پیٹرول پمپ تک پہنچنے کا موقع مل سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وارننگ لائٹ جلنے کے بعد گاڑی کتنا فاصلہ طے کر سکتی ہے، اس کا انحصار گاڑی کے ماڈل، انجن، سڑک کی صورتحال، ٹریفک اور ڈرائیونگ کے انداز پر ہوتا ہے۔ عام طور پر بیشتر گاڑیاں اس مرحلے پر تقریباً 30 سے 80 کلومیٹر تک چل سکتی ہیں، تاہم ہر گاڑی کے لیے یہ فاصلہ مختلف ہو سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فیول وارننگ کو معمولی سمجھ کر مسلسل گاڑی چلانا درست نہیں۔ بار بار ٹینک کو تقریباً خالی ہونے تک استعمال کرنے سے فیول پمپ پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ ٹینک میں موجود آلودگی بھی فیول سسٹم میں داخل ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس سے گاڑی کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹرز کی پگڑی کیوں اچھالی گئی؟ چکری سگریٹ کیس پر سینیٹ کمیٹی برہم
اسی لیے اگر آپ کی گاڑی میں فیول وارننگ لائٹ روشن ہو جائے تو بہتر یہی ہے کہ جلد از جلد قریبی پیٹرول پمپ سے ایندھن ڈلوا لیا جائے۔ یہ عادت نہ صرف غیر متوقع پریشانی سے بچاتی ہے بلکہ گاڑی کے انجن اور فیول سسٹم کی بہتر کارکردگی برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔











