تہران ( پاک ترک نیوز) ایران جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پہلی ملاقات۔۔۔ وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف جاری جنگ، خطے کی صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔۔۔ دوسری جانب نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اہم علاقائی اور سکیورٹی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وائٹ ہاؤس نے ملاقات کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ملاقات کو کامیاب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک ہر سطح پر تعاون جاری رکھیں گے۔
ادھر نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کے خلاف امریکی دارالحکومت میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ شدید بارش کے باوجود مظاہرین وائٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرتے رہے اور اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں پھر اضافہ
سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو وائٹ ہاؤس کے قریب آگے بڑھنے سے روک دیا، جبکہ علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ احتجاج کے باعث اطراف کی بعض سڑکوں پر ٹریفک بھی متاثر رہی۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات کے فیصلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ صورتحال بلکہ خطے کی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔












