کابل ( پاک ترک نیوز) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان اور ان کی مخالف افغان فریڈم فرنٹ اور تنظیم سپاہیان مہین کی قیادت میں مسلحگروپوں کے درمیان جھڑپوں کا وقفے وقفے سے جاری سلسلہ تین روز میں داخل ہو گیاہے۔جبکہ دونوں جانب سے ہلاکتوں اور مختلف علاقوں پر قبضے کے متضاد دعوےٰ بھی سامنے آ رہے ہیں۔
افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تازہ جھڑپیں گزشتہ جمعرات کی شام شروع ہوئی تھیں جو بدستور جاری ہیں۔جن میں طالبان کی ایک سرحدی چوکی کے کمانڈر فرید اللہ وحدت پاکستان کی سرحد کے قریب توی خانہ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔اس ضمن میں طالبان کے مخالفین نے سوشل میڈیا پرچند تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ فرید اللہ وحدت کی لاش کی ہیں۔ تاہم اس دعوے کی طالبان یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
طالبان کی بدخشان ڈویژن کی انتظامیہ نے ان جھڑپوں اور ان میں دونوں جانب سےہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے مخالف گروپوں کی سرحد پار پاکستان کی جانب پسپائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔دوسری جانب افغان فریڈم فرنٹ (افغانستان فریڈم فرنٹ) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جمعرات کے روز ضلع زیباک میں طالبان کے ٹھکانوں پر اچانک حملے کیے۔تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس نے طالبان کو سرحدی بٹالین کے گرد کئی اہم چوکیوں اور پہاڑی مقامات سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، جبکہ طالبان کی جانب سے ان علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدخشان میں طالبان مخالف گروپ کا بڑا حملہ، جھڑپوں میں 15طالبان فوجی ہلاک
افغان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے افغان میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بدخشاں میں جاری لڑائی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ جھڑپیں چند روز قبل ہونے والے ایک اور حملے کے بعد سامنے آئی ہیں، جس کی ذمہ داریسپاہیان مہیننے قبول کی تھی۔ اس گرو پ نے بدخشاں کے علاقے یفتل پر حملہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے چند گھنٹوں کے لیے مقامی انتظامیہ کی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر لیا تھا اور علاقے کی سرکاری عمارت پر اپنا پرچم بھی لہرا دیا تھا۔
بدخشاں میں طالبان حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے صوبائی دارالحکومت فیض آباد کے قریب واقع ضلعی مرکز پر حملہ کیا اور چند گھنٹوں تک اس پر قابض رہے۔
طالبان کے مطابق حملے کے وقت متعدد مقامی حکام جن میں ضلعی پولیس سربراہ بھی شامل تھے، چھٹی پر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آوروں نے اندھیرے کی آڑ میں انتظامیہ اور پولیس کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔
حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدخشاں میں طالبان اور ان کے مخالف مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے، جبکہ دونوں فریق ہلاکتوں، نقصانات اور مختلف علاقوں پر کنٹرول سے متعلق متضاد دعوے کر رہے ہیں۔












