کابل ( پاک ترک نیوز) طالبان رجیم کے خلاف بڑھتی مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی۔ یفتل کے بعد اب زیبک، بدخشان میں بھی طالبان مخالف گروپ نے بڑا حملہ کر دیا ۔ توپ خانہ علاقے میں طالبان کی چوکیوں پر شدید جھڑپیں ہوئیں ۔پندرہ طالبان فوجی ہلاک ہو گئے، مزید علاقوں تک لڑائی پھیلنے کا خدشہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق بدخشان میں طالبان رجیم کی گرفت کمزور پڑنے لگی، بدخشان طالبان رجیم کے لیے نیا دردِ سر بن گیا ۔اس سے پہلے مزاحمتی گروپ سپاہیانِ میہن نے یفتل ، بدخشان میں ضلعی ہیڈکوارٹر، پولیس اور انٹیلی جنس دفاتر عارضی طور پر چھین لیے تھے۔ طالبان کا پرچم اتار کر اسلحہ، گاڑیاں اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا تھا۔
زیبک میں طالبان مخالف فورسز نے نئی کارروائی شروع کر دی، مسلسل مزاحمتی حملے طالبان رجیم سے عوام کی بڑھتی بےزاری اور اس کی جابرانہ و آمرانہ پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے،وزیراعظم
مقامی سطح پر مزاحمتی نیٹ ورکس مضبوط اور نئے طالبان مخالف گروپ سامنے آ رہے ہیں۔ مزاحمت اب صرف پنجشیر اور اندراب تک محدود نہیں رہی بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز ، کاپیسا، بلخ اور ہرات تک پھیل چکی ہیں۔ طالبان رجیم مخالف مزاحمتی سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔












