نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارت میں ہونے والا برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ اعلامیہ جاری کیے بغیر بے نتیجہ ختم ہو گیا۔ دو روزہ اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر شدید اختلافات بتایا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں میزبان بھارت کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ایران، روس، چین، جنوبی افریقا اور برازیل کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔
اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ جنگ، آبنائے ہرمز کی صورتحال، بحری تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران چاہتا تھا کہ برکس کھل کر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ ایک رکن ملک نے اعلامیے کے بعض حصوں کو روک دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے موجودہ جنگ میں صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا چاہے وہ اڈے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر موجود ہوں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایرانی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اماراتی نائب وزیر خارجہ خلیفہ شاہین المرر نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے 28 فروری سے اماراتی شہری تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
چیئرمین بیان میں جلد آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کے سفارتی حل، علاقائی خودمختاری کے احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر زور دیا گیا۔












