واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) دنیا کی معروف چِپ ساز کمپنی انٹیل نے خلائی مشنوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا نیا پراسیسر "اسٹارفائر” متعارف کرا دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پراسیسنگ اور سیٹلائٹس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پراسیسر انتہائی سخت خلائی ماحول، شدید تابکاری اور درجہ حرارت میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود طویل عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انٹیل کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ پراسیسر رواں سال کے اختتام تک صارفین کے لیے دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
انٹیل حکام کے مطابق امریکہ میں قومی سلامتی کے لیے خلا کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور تجارتی سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافے کے باعث خلائی کمپیوٹنگ کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسی لیے کمپنی نے اس منصوبے میں اپنی سرمایہ کاری کی ہے۔
اسٹارفائر میں مرکزی پراسیسر، تصویری تجزیے، اعصابی کمپیوٹنگ اور گرافکس پراسیسنگ کی صلاحیتیں ایک ہی چِپ میں شامل کی گئی ہیں، جس سے سیٹلائٹس خلا ہی میں تصاویر کا تجزیہ، اہداف کی شناخت، سینسرز سے حاصل ہونے والی معلومات کا یکجا تجزیہ اور خودکار فیصلے کر سکیں گے، جبکہ زمین پر ڈیٹا بھیجنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔
کمپنی اس پراسیسر کے دو ماڈل متعارف کرا رہی ہے۔ ایک کم توانائی استعمال کرنے والا ماڈل، جو 10 واٹ سے کم بجلی پر کام کرے گا، جبکہ دوسرا زیادہ طاقتور ماڈل ہوگا، جو زیادہ رفتار سے پیچیدہ معلومات پر کارروائی کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا بڑا سائنسی کارنامہ، "مصنوعی سورج” کی جانب اہم پیش رفت
انٹیل کے مطابق پراسیسر کی تابکاری برداشت کرنے کی آزمائش آخری مراحل میں ہے، جبکہ امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ اسے رواں سال ایک تجرباتی خلائی مشن میں استعمال کرنے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ اس پراسیسر کے تمام اہم حصے امریکہ میں ہی جوڑے جائیں گے اور خلائی معیار کے مطابق ان کی جانچ کی جائے گی تاکہ سپلائی کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے لیس سیٹلائٹس نگرانی، موسمیاتی تجزیے، مواصلات، دفاع، خلائی تحقیق اور خودکار خلائی مشنز میں اہم کردار ادا کریں گے، اور انٹیل کا نیا پراسیسر اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔












