بیجنگ ( پاک ترک نیوز) زمین کے بعد خلا بھی امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ عسکری محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے، دونوں ممالک خلائی جنگ کے لیے ایسی جدید صلاحیتیں تیار کررہے ہیں جن میں دوسرے سیاروں کی نگرانی، تعاقب اور حتیٰ کہ انہیں قابو کرنے والے نظام بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جون میں چین کے ایک خفیہ بغیر پائلٹ خلائی طیارے نے زمین سے سیکڑوں میل کی بلندی پر ایک چھوٹا سیارہ خلا میں چھوڑا۔ امریکی فوجی تجزیہ کار اس مشن پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔امریکی خلائی نگرانی کرنے والی کمپنی کے مطابق اس چھوٹے سیارے نے ایک دوسرے چینی سیارے کے گرد چکر لگایا اور پھر دوبارہ اپنے خلائی طیارے کی سمت واپس آیا۔ اس مشن کی اصل نوعیت اور مقصد کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
امریکا بھی بغیر پائلٹ کے ایک خفیہ خلائی طیارہ چلارہا ہے، جو چھوٹے خلائی شٹل سے مشابہ ہے۔ دونوں ممالک کی یہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مستقبل کی جنگیں زمین کی حدود سے نکل کر خلا تک پھیل سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق چینی فوج سے وابستہ محققین ایسے نظام تیار کررہے ہیں جن کے ذریعے ایک سیارہ دوسرے خلائی جہاز کا تعاقب اور اسے قابو کرسکے گا۔ ان ٹیکنالوجیز میں ایسے نظام بھی شامل ہیں جو خلائی جہازوں کو طویل عرصے تک خلا میں رہنے کے لیے اضافی ایندھن فراہم کرسکتے ہیں۔امریکی خلائی فورس کے سربراہ جنرل چانس سالٹزمین نے خبردار کیا ہے کہ چین تیزی سے ایسی صلاحیتیں تیار کررہا ہے جن میں زمین اور خلا دونوں سے اہداف کو متاثر یا تباہ کرنے والے ہتھیار شامل ہیں۔ ان کے مطابق چین سے لاحق خطرہ انتہائی سنجیدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے کوانٹم کمپیوٹنگ میں اہم کامیابی حاصل کرلی
جدید جنگ میں مصنوعی سیارے انتہائی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے ثابت کیا ہے کہ مواصلات، رہنمائی، نگرانی اور انٹیلی جنس کے لیے خلائی نظام کس قدر اہم ہوچکے ہیں۔اب فوجی ماہرین کے نزدیک سیارے محض زمین سے اوپر گردش کرنے والے مواصلاتی نظام نہیں رہے بلکہ انہیں فعال جنگی پلیٹ فارم کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔کسی دشمن سیارے کے نظام میں خلل ڈالنے کے لیے اس کے مواصلاتی رابطے متاثر کیے جاسکتے ہیں، لیزر کے ذریعے اس کے حساس آلات کو عارضی طور پر ناکارہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ مستقبل میں دشمن کے خلائی جہاز کو براہ راست قابو کرنے کی صلاحیت بھی استعمال ہوسکتی ہے۔











