کیلیفورنیا ( پاک ترک نیوز) امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایسٹ بے ڈسٹرکٹ میں ہونے والے خصوصی انتخابات میں ترقی پسند رہنما عائشہ وہاب نے کامیابی حاصل کرلی۔عائشہ وہاب نے سابق رکنِ کانگریس ایرک سوئل ویل کی خالی نشست پر خصوصی انتخاب جیت لیا۔ سوئل ویل نے اپریل میں جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد استعفیٰ دیا تھا، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ریاستی سینیٹر عائشہ وہاب کو انتخاب سے قبل اس حلقے میں مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔ انہیں کیلیفورنیا کی ڈیموکریٹک پارٹی، مزدور یونینز، مقامی رہنماؤں اور ترقی پسند حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔
عائشہ وہاب نے اپنی کامیابی پر کہا کہ وہ اس ضلع کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گی جس نے انہیں پروان چڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوسٹر کیئر سے کانگریس تک کا سفر امریکی خواب کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔انتخابی مہم کے دوران عائشہ وہاب کو ایک طرف ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کی حمایت حاصل رہی، جبکہ دوسری جانب ان کی مخالف امیدوار میلیسا ہرنینڈز کے حق میں بڑی رقم خرچ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل نواز لابنگ گروپ اے آئی پی اے سی سے منسلک سپر پی اے سیز نے ہرنینڈز کی حمایت اور عائشہ وہاب کے خلاف اشتہاری مہم پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔
95 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر عائشہ وہاب کو میلیسا ہرنینڈز پر تقریباً 6 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، جبکہ ابتدائی طور پر عائشہ وہاب کی واضح کامیابی کی توقع کی جا رہی تھی۔عائشہ وہاب کیلیفورنیا کی ریاستی مقننہ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون اور پہلی افغان نژاد امریکی بھی رہی ہیں۔انتخابی مہم کے دوران عائشہ وہاب نے اپنے خلاف چلائی جانے والی اشتہاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے سیاسی ریکارڈ کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور بیرونی گروپس نشست کو اپنے حق میں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس میں پٹرول کا شدید بحران، 10 میں سے 7 پٹرول پمپس پر ایندھن نایاب
دوسری جانب شکست خوردہ امیدوار میلیسا ہرنینڈز نے کہا کہ انہیں اپنی انتخابی کارکردگی پر فخر ہے اور وہ حلقے کے عوام کے لیے جدوجہد کرتی رہیں گی۔












