ماسکو ( پاک ترک نیوز) روس میں یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث پٹرول کا بحران شدت اختیار کر گیا، ملک بھر کے 70 فیصد سے زائد پٹرول پمپس پر ایندھن دستیاب نہیں، جبکہ ماسکو میں بھی پٹرول کے لیے قطاریں لگنا شروع ہوگئیں۔روس میں ایندھن کی دستیابی پر نظر رکھنے والی ایپ کے مطابق بدھ کے روز ملک بھر میں صرف 28 فیصد پٹرول اسٹیشنز پر پٹرول دستیاب تھا، جو ایک ہفتہ قبل 41 فیصد تھا۔
ایندھن کی قلت کے باعث تقریباً تمام علاقوں میں پٹرول کی فروخت محدود کردی گئی ہے، بعض مقامات پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کے حساب سے پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ پٹرول اسٹیشنز پر فی صارف خریداری کی حد مقرر ہے۔
ماسکو میں گیزپروم نیفٹ کے اسٹیشنز پر فی گاڑی 40 لیٹر پٹرول کی حد مقرر کردی گئی، جبکہ تات نیفٹ نے پٹرول 50 اور ڈیزل 60 لیٹر تک محدود کردیا۔ ماسکو میں اے آئی 92 پٹرول صرف ہر 10 میں سے ایک اسٹیشن پر دستیاب رہا۔روس میں جاری ایندھن بحران کی بڑی وجہ یوکرین کے ڈرون حملے ہیں، جن میں روس کے تیل کے ذخائر، ریفائنریوں اور برآمدی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے آغاز تک روس کی تمام بڑی ریفائنریاں کم از کم ایک مرتبہ ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکی تھیں، جبکہ اگست کے پہلے دو ہفتوں میں بھی تقریباً ایک درجن مزید تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی پٹرول کی قلت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ’’غیر اہم‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یوکرینی حملوں سے روس کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 35ہزار کلو میٹر تک مار،روس کا ایٹمی میزائل تیار،دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی
بحران سے نمٹنے کے لیے روس نے جولائی میں پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جبکہ بیلاروس، قازقستان اور پہلی مرتبہ مراکش سے بھی پٹرول درآمد کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایندھن کی قلت پر عوامی احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ وولگوگراد میں پانچ شہریوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے روسی حکام کو ویڈیو پیغام کے ذریعے پٹرول کی قلت اور اشرافیہ کو مبینہ طور پر دی جانے والی سہولتوں کی شکایت کی۔











