لاہور( پاک ترک نیوز) ذرا سوچیئے ایک ایسا راکٹ دو چالیس منزلہ عمارت جتنا بلند ہو . پانچ ہزار ٹن سے زیادہ ایندھن بھرا ہو اور سب سے حیران کن بات کہ ۔یہ راکٹ صرف مریخ تک پہنچنے کے لیے نہیں، بلکہ مریخ سے انسان کو واپس زمین پر لانے کے خواب کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے!لیکن سوال یہ ہے۔۔۔مریخ پر اتنا ایندھن کہاں سے آئے گا؟کیا انسان واقعی دوسرے سیارے پر پہنچ کر وہیں راکٹ کا ایندھن تیار کرسکے گا؟اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو کیا مریخ پر انسانی بستیاں آباد ہونے کا خواب حقیقت بن جائے گا؟
یہ صرف ایک راکٹ نہیں۔۔۔یہ انسان کے زمین سے باہر نکلنے کی سب سے بڑی کوششوں میں سے ایک ہے!اسٹار شپ۔۔۔تقریباً 124 میٹر بلند۔۔۔یعنی لگ بھگ 40 منزلہ عمارت کے برابر!لیکن اس کی اصل طاقت اس کے قد میں نہیں۔۔۔بلکہ اس کے اندر چھپے ہوئے ایندھن میں ہے۔مکمل راکٹ نظام میں تقریباً 5 ہزار 250 ٹن مائع میتھین اور آکسیجن سما سکتی ہے۔یعنی ایک ایسا دیوہیکل خلائی جہاز۔۔۔جس کا وزن ہی نہیں، اس کا مشن بھی ناقابلِ تصور ہے۔
زمین سے اڑتے وقت نیچے موجود سپر ہیوی بوسٹر راکٹ کو خلا کی طرف دھکیلتا ہے۔۔۔پھر یہ حصہ الگ ہوجاتا ہے۔۔۔اور اوپر موجود اسٹار شپ اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔۔۔زمین سے مریخ تک لاکھوں کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد اگر اسٹار شپ وہاں اتر گئی۔۔۔تو واپسی کے لیے کیا ہوگا؟کیا زمین سے دوبارہ ہزاروں ٹن ایندھن مریخ تک پہنچایا جائے گا؟یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اسٹار شپ کے پورے تصور میں چھپا ہوا ہے۔میتھین۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیج کے سینئر اداکار آصف اقبال انتقال کرگئے
اس منصوبے کا اہم ترین ایندھن!کیونکہ سائنس دانوں کے مطابق مریخ پر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ اور برف کی صورت میں موجود پانی مستقبل میں ایندھن بنانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔یعنی انسان مریخ پر پہنچے گا۔۔۔مریخ کے وسائل استعمال کرے گا۔۔۔اور پھر وہیں سے اپنی واپسی کا ایندھن تیار کرے گا!مریخ کی سطح پر موجود برف سے پانی حاصل کیا جائے گا۔پھر پانی کو ایک خاص عمل کے ذریعے ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔اس کے بعد مریخ کے ماحول سے حاصل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن کو کیمیائی عمل کے ذریعے میتھین میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اور یوں۔۔۔
مریخ کی مٹی اور فضا سے حاصل ہونے والے وسائل کو استعمال کرکے راکٹ کے لیے درکار ایندھن تیار کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔یہ کام کاغذ پر جتنا آسان دکھائی دیتا ہے۔۔۔مریخ پر اتنا ہی مشکل ہوگا۔کیونکہ وہاں صرف ایندھن بنانا کافی نہیں۔اس کے لیے بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنا ہوگی۔۔۔پانی تلاش کرکے نکالنا ہوگا۔۔۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کرنا ہوگا۔۔۔میتھین اور آکسیجن کو صاف کرنا ہوگا۔۔۔اور پھر انہیں انتہائی کم درجہ حرارت پر ذخیرہ بھی کرنا ہوگا۔یعنی مریخ پر صرف راکٹ نہیں اترے گا۔۔۔بلکہ ایک مکمل ایندھن بنانے والا صنعتی نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوگئی۔۔۔تو انسان کو ہر بار زمین سے مریخ تک واپسی کا ایندھن لے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔












