واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکی خلائی ادارے ناسا نے تاریخی ہبل خلائی دوربین کو مزید کئی سال فعال رکھنے کے لیے نئی کوششیں شروع کردیں۔ ادارے نے نجی کمپنیوں اور صنعتوں سے ایسی تجاویز طلب کرلی ہیں جن کے ذریعے دوربین کا مدار بلند کرکے اسے زمین کی فضا میں داخل ہونے سے بچایا جاسکے۔
خلائی ویب سائٹ اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق ناسا نے 29 اکتوبر کو معلومات کی فراہمی کے لیے درخواست جاری کی، جس میں ہبل کی خلا میں مرمت، مدار کی بلندی میں اضافے اور اس کی سائنسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے امکانات شامل ہیں۔
اپریل 1990 میں لانچ ہونے والی ہبل دوربین نے کائنات کے بارے میں انسانی علم میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ اس نے کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار میں اضافے کے شواہد فراہم کرنے سمیت سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں سے متعلق اہم دریافتوں میں کردار ادا کیا۔ اس کی مدد سے اب تک کم از کم 23 ہزار سائنسی تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔
ناسا کے مطابق زمین کی فضا کی معمولی مزاحمت کے باعث ہبل کا مدار مسلسل نیچے آرہا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ 2033 یا 2034 میں زمین کی فضا میں داخل ہوجائے گی۔ دوربین کو بچانے کے لیے ممکنہ مشن 2032 میں انجام دینا ہوگا۔
ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین کا کہنا ہے کہ ہبل کی سائنسی اہمیت کے پیش نظر اسے زیادہ سے زیادہ عرصے تک فعال رکھنے کے ہر معقول امکان کا جائزہ لیا جانا چاہیے، خصوصاً اگر اس پر نیا خلائی مشن بھیجنے کے مقابلے میں کم لاگت آئے۔
ہبل دوربین کی خلا میں مرمت کے لیے اس سے قبل بھی کوششیں کی جاچکی ہیں۔ خلائی شٹل کے ذریعے خلاباز پانچ مرتبہ اس کی مرمت کرچکے ہیں، آخری مشن 2009 میں بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سویڈن کا جنگی طیارے کا مصنوعی ذہانت سے کنٹرول
ناسا کی درخواست میں متبادل تجاویز بھی شامل ہیں، جن میں مشن کے اختتام پر دوربین کو محفوظ اور کنٹرول شدہ انداز میں زمین کی فضا میں داخل کرنا یا اسے کسی دوسرے مدار میں منتقل کرنا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال ناسا نے سوئفٹ خلائی رصدگاہ کا مدار بلند کرنے کے لیے بھی ایک نجی کمپنی کے ساتھ 3 کروڑ ڈالر کا منصوبہ شروع کیا تھا، تاہم تکنیکی اور کنٹرول مسائل کے باعث خلائی جہاز اس رصدگاہ تک نہیں پہنچ سکا۔






