منگل , 1 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

ایک کاٹن ٹی شرٹ کی تیاری میں 2700 لیٹر پانی خرچ

3 دن پہلے
A A
2700 liters of water are used to produce a single cotton T-shirt.
Share on Facebookwhatsapp

لاہور( پاک ترک نیوز) گرمی ہو یا سردی، ٹی شرٹ ہماری روزمرہ زندگی کا عام لباس ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک عام کاٹن ٹی شرٹ کی تیاری میں تقریباً 2700 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے؟ یہ مقدار ایک شخص کی تقریباً 900 دن کی پینے کی ضرورت کے برابر بتائی جاتی ہے۔ جو ایک بالغ انسان کے تقریباً ڈھائی سال کے پینے کے پانی کے برابر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پانی کا بڑا حصہ کپڑا بنانے والی فیکٹری میں نہیں بلکہ کپاس کی کاشت کے دوران استعمال ہوتا ہے۔

ماحولیاتی تجزیوں کے مطابق 2700 لیٹر پانی کا تخمینہ کپاس کی کاشت سے لے کر کپڑے کی تیاری، رنگائی، فنشنگ اور ترسیل تک پورے عمل کو شامل کرکے لگایا جاتا ہے۔اس پانی کا تقریباً 90 فیصد حصہ کپاس کی کاشت میں استعمال ہونے والے پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ باقی پانی کپڑے کی رنگائی، تکمیل اور دیگر صنعتی مراحل میں خرچ ہوتا ہے۔

واٹر فٹ پرنٹ کے عالمی طریقہ کار کے مطابق کپاس کی پیداوار میں پانی کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔سبز پانی وہ بارش کا پانی ہے جو فصل استعمال کرتی ہے، جبکہ نیلا پانی دریاؤں، نہروں اور زیرِ زمین ذخائر سے آبپاشی کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔

تیسری قسم سرمئی پانی ہے، جس سے مراد صنعتی آلودگی کو محفوظ سطح تک کم کرنے کے لیے درکار صاف پانی ہے۔ماہرین کے مطابق اصل ماحولیاتی مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کپاس خشک علاقوں میں زیرِ زمین پانی یا دریاؤں کے پانی سے اگائی جائے، کیونکہ اس صورت میں فصل کے لیے استعمال ہونے والا پانی کسی دوسرے ماحولیاتی یا انسانی مقصد کے لیے دستیاب نہیں رہتا۔

ازبکستان اور قازقستان کے درمیان واقع خطہ اس مسئلے کی نمایاں مثال ہے۔ سوویت دور میں دریائے آمو اور سیر دریا کے پانی کا بڑا حصہ کپاس کی کاشت کے لیے منتقل کیا گیا، جس کے نتیجے میں بحیرۂ ارال تک پہنچنے والے پانی میں شدید کمی واقع ہوئی۔1960 میں بحیرۂ ارال دنیا کی بڑی جھیلوں میں شمار ہوتا تھا، تاہم مسلسل آبپاشی اور پانی کے رخ کی تبدیلی کے باعث اس کا بڑا حصہ خشک ہوگیا۔

بھارت اور پاکستان میں بھی دریائے سندھ کا طاس پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں کپاس سمیت مختلف فصلوں کی آبپاشی کے لیے ٹیوب ویلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔مثلاً اگر ازبکستان میں پیدا ہونے والی کپاس سے بننے والی ٹی شرٹ بنگلہ دیش میں تیار ہو اور جرمنی میں فروخت ہو تو اس ٹی شرٹ میں شامل ہزاروں لیٹر پانی دراصل ان علاقوں میں استعمال ہوا جہاں کپاس اگائی گئی تھی۔

یوں تقریباً 150 گرام وزنی ٹی شرٹ اپنے ساتھ ہزاروں لیٹر ’’مجازی پانی‘‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔کپاس کی کاشت کے علاوہ کپڑے کی رنگائی اور فنشنگ بھی پانی کے استعمال اور آلودگی کا اہم ذریعہ ہیں۔بنگلہ دیش، بھارت، چین اور ویتنام جیسے ممالک میں ٹیکسٹائل صنعت میں بڑی مقدار میں پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر صنعتی فضلہ مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر دریاؤں میں شامل ہوجائے تو آبی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آب زم زم اللہ کی رحمت ،شفا اور برکت کا معجزہ

بنگلہ دیش کا دریائے بوری گنگا، انڈونیشیا کا دریائے سیتارم اور چین کے دریائے پرل کے ڈیلٹا کے بعض علاقے ٹیکسٹائل آلودگی کے باعث متاثر ہونے والے آبی ذخائر کی مثالیں ہیں۔ایک عام کاٹن ٹی شرٹ کے مقابلے میں جینز کی تیاری میں پانی کی ضرورت مزید زیادہ ہوتی ہے۔ماحولیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق ایک جوڑے جینز کی تیاری میں تقریباً 3 ہزار 781 لیٹر پانی استعمال ہوسکتا ہے۔یعنی ایک جینز اور ایک ٹی شرٹ کی تیاری میں مجموعی طور پر تقریباً 6 ہزار 500 لیٹر پانی کا واٹر فٹ پرنٹ بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2700 لیٹر کا عدد ایک عالمی اوسط ہے اور ہر ٹی شرٹ کے لیے یکساں نہیں۔بارش پر انحصار کرنے والے علاقوں میں اگائی جانے والی کپاس کا آبی اثر نسبتاً کم ہوسکتا ہے، جبکہ خشک علاقوں میں آبپاشی کے ذریعے پیدا کی جانے والی کپاس کا پانی کا اثر کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔اسی لیے پانی کے صرف حجم کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پانی کہاں سے لیا گیا اور اس علاقے میں پانی کی دستیابی کتنی ہے۔

ایک ایسا لیٹر پانی جو بارش سے بھرپور علاقے میں استعمال ہو، اس کے ماحولیاتی اثرات اس ایک لیٹر سے بالکل مختلف ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار زیرِ زمین ذخیرے سے نکالا گیا ہو۔ماہرین کے مطابق صارف کے لیے سب سے مؤثر اقدام صرف کپڑے کے خام مال کا انتخاب نہیں بلکہ کپڑے کو زیادہ عرصے تک استعمال کرنا ہے۔

اگر ایک ٹی شرٹ صرف دو مرتبہ پہن کر پھینک دی جائے تو اس کی تیاری میں خرچ ہونے والے ہزاروں لیٹر پانی کا ماحولیاتی بوجھ بہت کم عرصے میں پورا ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس اگر وہی ٹی شرٹ کئی سال تک استعمال کی جائے تو اس کا پانی کا ماحولیاتی اثر ہر بار پہننے کے حساب سے کم ہوجاتا ہے۔دنیا بھر میں ہر سال اربوں ٹی شرٹس فروخت ہوتی ہیں۔ اگر ایک ٹی شرٹ کے لیے اوسطاً 2700 لیٹر پانی کا تخمینہ لیا جائے تو مجموعی طور پر کپاس کی ٹی شرٹس کی عالمی پیداوار سے وابستہ پانی کا حجم کھربوں لیٹر تک پہنچ جاتا ہے۔

موضوعات : #cottontshirtwater
ShareSend

متعلقہ خبریں

Zamzam water is a miracle of Allah's mercy, healing, and blessing.
تازہ ترین

آب زم زم اللہ کی رحمت ،شفا اور برکت کا معجزہ

22 اگست , 2026
Daducha Dam project approved; Rawalpindi to receive an additional 35 million gallons of water daily.
تازہ ترین

ددوچہ ڈیم منصوبے کی منظوری، راولپنڈی کو روزانہ 3 کروڑ 50 لاکھ گیلن اضافی پانی ملے گا

20 اگست , 2026
The heart-wrenching story of a grieving dolphin that carried its dead calf with it for several days.
تازہ ترین

غم زدہ ڈولفن کی دردناک کہانی، مردہ بچے کو کئی روز تک اپنے ساتھ لیے رہی

9 اگست , 2026
Lahore's groundwater is depleting rapidly; alarm bells have rung.
تازہ ترین

لاہور کا زیر زمین پانی تیزی سے کم ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

15 جولائی , 2026
پانی ہمارے لیے زندگی کا مسئلہ ہے ،حفاظت کرینگے ،عطا تارڑ
اہم ترین 3

پانی ہمارے لیے زندگی کا مسئلہ ہے ،حفاظت کرینگے ،عطا تارڑ

6 جولائی , 2026
سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام
تازہ ترین

سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام

6 جولائی , 2026
اگلی خبر
High-level inspection team likely to visit PIMS Hospital today, heads' leave cancelled

ہائی لیول انسپکشن ٹیم کا آج پمز اسپتال کے دورے کا امکان، سربراہان کی چھٹیاں منسوخ

یہ بھی پڑھیں

سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت ذمہ داریاں پوری کرے: ثالثی عدالت

سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت ذمہ داریاں پوری کرے: ثالثی عدالت

31 اگست , 2026
جی ایچ کیو میں ترک مسلح افواج کے یومِ فتح کی 104ویں سالگرہ کی تقریب

جی ایچ کیو میں ترک مسلح افواج کے یومِ فتح کی 104ویں سالگرہ کی تقریب

31 اگست , 2026
منگنی ہوئی نہ ہی شادی ،بلاول بھٹو بول پڑے

منگنی ہوئی نہ ہی شادی ،بلاول بھٹو بول پڑے

31 اگست , 2026
مکہ دفاعی اتحاد کا سیکریٹریٹ ریاض میں قائم کرنے پر اتفاق، پہلی سربراہی پاکستان کے پاس ہوگی

مکہ دفاعی اتحاد کا سیکریٹریٹ ریاض میں قائم کرنے پر اتفاق، پہلی سربراہی پاکستان کے پاس ہوگی

31 اگست , 2026
Prime Minister Shehbaz Sharif meets Iranian President in Kyrgyzstan.

وزیراعظم شہباز شریف کی کرغزستان میں ایرانی صدر سے ملاقات

31 اگست , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔