
از: سہیل شہریار
آبِ زمزم دنیا کے قدیم ترین اور مقدس ترین چشموں میں سے ایک ہے، جو مسجدِ حرام مکہ مکرمہ میں کعبہ کے قریب واقع ہے۔ زم زم کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اسکے گرد ایک کنواں بنا دیا گیا تھا جو آج مسجدِحرام میں خانۂ کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباً 21میٹر کے فاصلے پر تہ خانے میں واقع ہے
یہ معجزاتی چشمہ اللہ تعالیٰ نے تقریباً 5ہزار سال قبل حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کےصاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لیےانکی ایڑیوں کی رگڑسے جاری کیا تھا۔جبکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ٹھوکر ماری جس سے یہ چشمہ جاری ہوا۔
سعودی ارضیاتی سروے کے زم زم پر تحقیق کے ادارے زم زم سٹیڈیز اینڈ ریسرچ سینٹرکی جاری کردہ معلومات کے مطابق زَمْ زَم کے چشمے سےفی گھنٹہ 68ہزار4 سولیٹرپانی مسلسل نکالا جا رہا ہے۔مسجدِحرام سے ساڑھےچار کلو میٹردور ایک کارخانہ میں یومیہ دولاکھ گیلن آبِ زم زم ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ آبِ زم زم میں سوڈیم، کیلشیم،میگنیشیم، پوٹاشیم، کلورائڈ، فلورائڈ وغیرہ پائے جاتے ہیں جو نہ صرف بڑی بڑی بیماریوں کو دور کرتے ہیں بلکہ توانائی بھی دیتے ہیں۔ زَم زَم کی خصوصیات میں اسکے اندر اللہ تعالیٰ کی جانب سے رکھی گئی شفا سب سے اہم ہے۔ یہ چشمہ کم بیش 5ہزار سال سے بہہ رہا ہے۔اس میں نمکیات کی مقدار ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔دیگر کنووں میں کائی وغیرہ جم جاتی ہےاور جراثیم و دیگر خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں مگر چاہِ زم زم ان تمام خرابیوں سے پاک ہے۔ زم زم کی ایک معجزاتی خصوصیت یہ بھی ہے کہ عام پانی کے متضاد اگر اسے ذخیرہ کر لیا جائے تویہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔بلکہ جس عام پانی میں اسے ملا دیا جائے وہ بھی زم زم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور کبھی خراب نہیں ہوتا۔
جاپان کے مایہ نازآنجہانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو نے اپنی 2009کی تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ آب زمزم میں ایسی خصوصیات ہیں جو ساری دنیا کے کسی بھی پانی میں موجود نہیں۔ انہوں نے نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے آب زمزم پر متعدد تجربات کئے جن کی مدد سے ان کو معلوم ہوا کہ آب زمزم کا ایک قطرہ عام پانی کے ایک ہزار قطروں میں شامل کیا جائے تو عام پانی میں بھی زم زم کی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیںیعنی وہ زمزم میں تبدیل ہو جاتاہے۔ ڈاکٹر ایموٹو جاپان میں قائم ہائیڈرو انسٹیٹیوٹ برائے تحقیق کے سربراہ تھے۔ جن کی 2014میں وفات ہوئی۔ انہوں نے آب زم زم پر اپنی تحقیق کے بارے میں لکھا ہے کہ جاپان میں انہیں ایک عرب باشندے سے آب زمزم ملا جس پر انہوں نے متعدد تحقیقات کی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ زمزم کے ایک قطرے کا بلوریعنی چمکدار معدنی جوہر انفرادیت رکھتا ہے۔ دیگر اورکسی پانی کے قطرے کے بلور سے مشابہت نہیں رکھتا۔ کرہ ارض کے کسی خطے سے لئے گئے پانی کے خواص زمزم سے کسی طرح بھی مشابہت نہیں رکھتے۔ انہوں نے لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کیا کہ آب زمزم کے خواص کو کسی طرح بھی تبدیل کرنا ممکن نہیں جبکہ سائنس اس کی وجہ جاننے سے قاصر ہے۔ حتیٰ کہ زمزم کی ری سائیکلنگ کرنے کے بعد بھی اس کےخواص میں تبدیلی نہیںآتی۔
زمزم کا کنواں جو مکہ میں آنے والے برساتی سیلاب میں مٹی سے بھر کر بند ہو گیا تھا اسے آخری بار کعبتہ اللہ کے متولی رسول اکرم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کھدوایا تھا۔یہ تقریباً ساڑھے 30 میٹر گہرا ہے۔ جس کا اندرونی قطر 1.08 سے 2.66 میٹر تک ہے۔ کنویں کا اوپری ساڑھے 13 میٹر حصہ وادی ابراہیم کے ریتلے جلو میں اور نچلا 17میٹر زیریں حصہ ڈائرائٹ کی سخت چٹان میں کھودا گیا ہے۔ درمیان میں ایک نصف میٹر موٹی انتہائی سخت چٹان ہے۔ کنویں کا زیادہ تر حصہ پتھر کی چنائی سے جڑا ہوا ہے سوائے اوپر والے ایک میٹر کے جس میں مضبوط کنکریٹ کا کالر ہے۔ چشمے کاچٹانی حصہ کنویں میں پانی کا مرکزی داخلہ فراہم کرتا ہے۔
ہائیڈروجیولوجیکل طور پرزمزم وادی ابراہیم کے اندر واقع ہے جو مکہ کے مقدس شہر پر مشتمل ہے۔
تاریخی اعتبار سے زم زم کا چشمہ آٹھ سوتوںپر مشتمل تھا ۔ چنانچہ بیت اللہ شریف کے مطاف میں زم زم کے ارد گرد یہ کنوؤں کی صورت میں موجود ہیں ۔ جنہیں بند کر کےاوپر فرش ڈال دیا گیا ہے۔ اب دسمبر 2023 میں مطاف کے فرش کی تزئین و مرمت کے دوران فرش کی ٹوٹی ہوئی سلیں بدلنے کے دوران تین سے پانچ کنوئیں برآمد ہو ئےجنکے پانی کے نمونوں کی زم زم سٹیڈیز اینڈ ریسرچ سینٹرکی جانب سے جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کنوؤں کا پانی بھی زم زم کی خصوصیات کا حامل ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے انہیں بند کر دیا گیا ہے۔
زم زم کے کنویں کی تاریخ میں کئی بار مرمت اور تزئین و آرائش کی جا چکی ہے۔ حضرت عبدالمطلب (حضرت محمد ﷺ کے دادا) نے قبیلہ قریش کے دور میں کنویں کی دیواروں کی باقاعدہ چنائی کروائی۔اموی اور عباسی ا دوار میںکنویں کے اردگرد کے حصے کو پکا کروایا گیا اور اوپر گنبد تعمیرکیا گیا۔سلطنت عثمانیہ کے دوران بھی کئی عثمانی حکمرانوں نے اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کروائی۔
اب آل سعود کی حکمرانی میں 1953 میں پہلی بار موٹر پمپ نصب کیے گئے اور کنویں کے اردگرد کا دائرہ بہتر بنایا گیا۔1979میں پہلی بار غوطہ خوروں کی مدد سے کنویں کی مکمل اندرونی صفائی کی گئی جس سے پانی کا بہاؤ بہتر ہوا۔1990کی دہائی کے آغاز پر زم زم کے پانی کی مسجدنبوی تک ترسیل کے لئے پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ مگر زم زم نے پائپ لائن کے ذریعے مکہ مکرمہ سے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد اس منصوبے کو ختم کر دیا گیا۔ اور تب سے آج تک مسجد نبوی میں زم زم کی فراہمی کے لئے تینکر استعمال کئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عید میلاد النبی ﷺ پر 26 اگست کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
مسجد الحرام کی توسیع کے شاہ فہد کے منصوبے سے قبل زم زم کا کنواں بیت اللہ سے مشرق میں سیڑھیاں اتر کر تہہ خانے واقع تھا۔ اس کمرے کے باہر ایک سروس ایریا تھا جہاں زمزم کے ٹھنڈے پانی کے فوارے اور پینے کے لیے ڈسپنسنگ کنٹینر رکھے گئے تھے۔تاہم توسیع کے دوران مطاف کو بڑا کرنے کے لئےاسے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ اور اب یہ قابل رسائی نہیں ہے۔ اس کے بجائے اب زمزم کے ٹھنڈے پانی کے فوارے اور ڈسپنسنگ کنٹینرمطاف کے اطراف اور مسجد الحرام کے اندرکھے گئے ہیں۔جبکہ مسجد الحرام کی عمارت کے ارد گرد بھی پینے کے لئے زم زم کا وافر انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جو زائرین زمزم کو گھر لے جانا چاہتے ہوں انکے لئےمسجد الحرام کے جنوب میں کدائی کے علاقے میں ایک بوٹلنگ پلانٹ اور عوامی تقسیم کی سبیل قائم کی گئی ہے۔
زمزم یہ اسمِ علم ہے۔لغوی اعتبارسے زم زم کے معنی ہیں ’’رُک جا، رُک جا‘‘ اسی طرح بڑی مقدارمیں پانی کو بھی زمزم کہا جاتا ہے۔ جبکہ پانی کی آواز کو بھی زم زم کہتے ہیں۔
آبِ زم زم کے عربی، اسلامی اور تاریخی روایات میں 60 سے زائد نام اور القاب ملتے ہیں۔ ان میں سے چند مشہور اور اہم ناموں میںاسکا اصل نام:زمزم۔شُبَاعَةُ۔طَیِّبَة: ا۔شِفَاءُ سُقْمٍ۔مَضْنُونَةً۔مَكْتُومَةً۔سقیاءُ الحاج۔شرابُ الابرار۔بَرَّة / بَرَکَة۔طعامُ طُعْم۔’ سقیا اللہ للإسماعیل۔ہزمۃ جبرئیل۔طاہرۃ۔زمازم۔عاصمۃ۔سالمۃ۔صافیۃ۔ظاہرۃ۔عافیۃ اور مبارکۃ وغیرہ شامل ہیں۔
عرب مورخین کے مطابق زمزم کا کنواں، سوائے چند ادوار کے جب یہ ریت کے نیچے دب گیا تھاتقریباً 5000 سال سے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ چشمہ جو بعد ازاں کنویں میں تبدیل ہو گیا۔پہلے پہل اس وادی غیرذی زرعہ میں قافلوں کے لیے آرام گاہ۔ اور آخر کار مکہ کے تجارتی شہر میں تبدیل ہو گیا۔اسی دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پرحضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ کعبہ کی تعمیر نو کی ۔ جسے پہلے پہل فرشتوں اور پھرحضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ گھر نوع انسانی کے لئےروئے زمین پر سب سے مقدس عمارت ہے۔ جو احادیث مبارکہ کے مطابق ساتویں آسمان پراللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچےفرشتوں کے لئے بنائے گئے بیت المعمورکے عین نیچےواقع ہے۔
اماں حاجرہ سلام اللہ علیہا کا بے قراری کی اس حالت میں صفا مروہ پر سات مرتبہ چڑھنا اوراُترنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اسے سعی کی صورت میں رہتی دنیا تک حج اور عمرے کا لازمی حصہ بنا دیا۔اور ساتھ ہی طواف کے بعد کعبہ کی طرف رخ کر کے سیر ہو کر زم زم کا پینا بھی لازم ٹھہرا دیا۔
زم زم سے برکت حاصل کرنے کے لیے زائرین نہ صرف اسے پیتے ہیں۔ بلکہ اپنے ساتھ بھی گھروں کو لے جاتے ہیں اور بطور تبرّک تقسیم کرتے ہیں۔ ترمذی شریف میں حضرت عروۃ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مروی ہے کہ جب اماں عائشہ رضی اللہ عنہامکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ لوٹتی تھیں تو زمزم ساتھ لے جاتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے۔
اپنی روحانی برکتوں کے علاوہ آبِ زم زم دنیا کا بہترین پانی ہے جو بھوک اور پیاس دونوں میں یکساں مفید ہے۔ یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کےحکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس وادی غیر ذی زرع میں آبسنے والے ان دو پاکیزہ نفوس اور انکے طفیل اللہ تعالیٰ کی جانب سے رہتی دنیا تک مکہ مکرمہ جانے والے تمام مسلمانوں کی مہمانداری کا اہتمام تھا۔ زمزم کی نعمت غیر متوقع اور غیر مترقبہ تب ان ماں بیٹے کی واحد کفیل تھی۔ یعنی پیاس میں زمزم سے سیرابی بھی اور بھوک میں زمزم ہی سے سیر شکمی بھی ہوتی تھی ۔
مسلم شریف میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا”روئے زمین پر سب سے بہتر پانی آبِ زم زم ہے، جو بھوکے کے لیے عمدہ غذا اور بیماری کے لیے شفا ہے۔امام احمد بن حنبلؒنے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےؒ روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زم زم کا پانی اسی نیت کے مطابق فائدہ دیتا ہے جس کے ساتھ اسے پیا جائے۔ امام ابن ماجہؒ نے بھی یہ حدیث عبد اللہ بن مؤملؓ کے حوالے سے ذکر کی ہےکہ ’’ماء زمزم لما شرب لہ۔‘‘یعنی زم زم ویسا ہے جیسا پیا جا ئے۔
حاکم ؒنےابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کسی آدمی سے کہا کہ جب تو زمزم کا پانی پیے تو کعبہ کی طرف رخ کرکے اللہ کا نام لے کر تین سانسوں میں خوب پیٹ بھر کر پی۔ بعد ازاں الحمد للہ کہہ ۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان امتیازی شان یہ ہے کہ وہ پیٹ بھر کر آبِ زم زم نہیں پیتے۔












