بدھ , 16 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

پمز نرسری آتشزدگی، 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، انکوائری رپورٹ میں انتظامی ناکامی کا انکشاف

1 دن پہلے
A A
PIMS nursery fire and death of 14 newborns Inquiry report reveals administrative failure.
Share on Facebookwhatsapp

اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کی وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی مکمل انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق 26 اگست کو نرسری میں آگ لگنے کے وقت 15 نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک محفوظ رہا۔انکوائری کمیٹی نے آگ لگنے کی وجہ کے ساتھ سانحے کے تباہ کن نتائج، ہنگامی ردعمل، بچوں کے انخلا، فائر سیفٹی انتظامات اور انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا۔

نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ ذریعہ اے سی یونٹ نمبر دو کے قریب موجود بجلی کی کیبل تھی۔رپورٹ کے مطابق غیر معمولی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا مقامی برقی نقص کے باعث کیبل کی حفاظتی تہہ متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔

انکوائری میں آتش زنی، متعدد مقامات سے آگ لگنے، بیرونی برقی خرابی یا آکسیجن کے اخراج کو آگ کی وجہ قرار دینے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ انکیوبیٹر یا وارمر کو بھی آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ 15 سیکنڈ پر واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جبکہ چند ہی لمحوں میں فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بچانے کی کوشش شروع کردی۔چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے فوری کارروائی کی، نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود بچے کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔تحقیقاتی کمیٹی نے واضح کیا کہ شواہد اس الزام کی تائید نہیں کرتے کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 بج کر 39 منٹ 15 سیکنڈ تک گہرے دھوئیں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی بھی مکمل طور پر متاثر کردی تھی۔انکوائری میں نرسری کے حفاظتی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ دس بستروں کے یونٹ میں 15 انتہائی نازک نومولود بچے زیر علاج تھے، جبکہ متعدد بچے آکسیجن اور سانس کی معاونت پر انحصار کررہے تھے۔واقعے کے وقت صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں، جبکہ نومولود بچوں کے فوری اور محفوظ انخلا کے وسائل بھی انتہائی محدود تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے باقاعدہ منظور شدہ اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ طریقہ کار کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا سراغ لگانے، خطرے کی اطلاع دینے والے نظام اور خودکار آگ بجھانے والے نظام کی موجودگی بھی ثابت نہیں ہوسکی۔انکوائری کمیٹی نے بیرونی امداد کے ردعمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر ظاہر ہوئی، بیرونی امداد کی اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی، امدادی عملہ 6 بج کر 55 منٹ پر روانہ ہوا اور 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچا۔رپورٹ کے مطابق آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان یہ وقفہ ناقابل قبول تھا۔کمیٹی نے قرار دیا کہ پمز ایسا مربوط ہنگامی کمانڈ نظام قائم کرنے کا ثبوت پیش نہیں کرسکا جو آگ کی اطلاع ملتے ہی خطرے کی نشاندہی، بیرونی امداد، انخلا اور امدادی کارروائی کو فوری طور پر فعال کرسکتا۔انکوائری رپورٹ کے مطابق پمز نرسری کا سانحہ ایسے معلوم خطرات کے پس منظر میں پیش آیا جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت، وفاقی محتسب کی 2015 کی سفارشات اور 2025 میں پمز کی جانب سے فرسودہ فائر سیفٹی نظام کے اعتراف کے باوجود مؤثر اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بعد بھی بروقت آگ کی نشاندہی، الارم، برقی معائنے، انخلا، آگ بجھانے کے آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان خامیوں کو نرسری سانحے سے پہلے جامع حفاظتی نظام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا خلا میں پہلا جنگی ہتھیار تعینات کرنے کا اعلان، چین اور روس کے لیے بڑا انتباہ

انکوائری کمیٹی نے معاملے میں نظامی اور ادارہ جاتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے پر پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔رپورٹ میں اے سی یونٹ نمبر دو کی برقی تنصیب اور دیکھ بھال، ہنگامی راستوں میں ممکنہ رکاوٹ، سابقہ تنبیہات کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ممکنہ تاخیر سمیت چار پہلوؤں پر مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔کمیٹی نے واضح کیا کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت نہیں ہوتا، تاہم مزید تحقیقات کے ذریعے ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

انکوائری کمیٹی نے فوری فائر سیفٹی اقدامات، برقی حفاظتی آڈٹ، مؤثر آگ بجھانے اور انخلا کے نظام، نومولود بچوں کے لیے خصوصی ہنگامی طریقہ کار اور باقاعدہ فائر ڈرلز کرانے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے قرار دیا کہ 14 نومولود بچے صرف ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی سے جاں بحق نہیں ہوئے بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات کے موجود نہ ہونے، کمزور ہونے، بروقت فعال نہ ہونے یا ان کی مؤثریت کی تصدیق نہ کیے جانے کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔

موضوعات : pimsreport
ShareSend

متعلقہ خبریں

سانحہ پمز پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں حکام کی طلبی
پاکستان

سانحہ پمز پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں حکام کی طلبی

9 ستمبر , 2026
Alleged irregularities in the tender for PIMS's new emergency department.
تازہ ترین

پمز کی نئی ایمرجنسی کے ٹینڈر میں مبینہ بے ضابطگیاں

3 ستمبر , 2026
Parliamentary inquiry into the PIMS incident Government seeks nominations from all parties.
تازہ ترین

سانحہ پمز کی پارلیمانی تحقیقات، حکومت نے تمام جماعتوں سے نام طلب کرلیے

31 اگست , 2026
PIMS Incident Interim inquiry report recommends removing 10 officers and staff members from their posts.
تازہ ترین

سانحہ پمز: عبوری انکوائری رپورٹ میں 10 افسران و عملے کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش

29 اگست , 2026
PIMS incident Implementation of inquiry report recommendations begins; Executive Director Dr. Imran Sikandar directed to step down.
تازہ ترین

سانحہ پمز، انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد شروع، ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر عمران سکندر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت

29 اگست , 2026
High-level inspection team likely to visit PIMS Hospital today, heads' leave cancelled
تازہ ترین

ہائی لیول انسپکشن ٹیم کا آج پمز اسپتال کے دورے کا امکان، سربراہان کی چھٹیاں منسوخ

29 اگست , 2026
اگلی خبر
Production of solid-state batteries by the Chinese company BYD

چینی کمپنی بی وائی ڈی کی ٹھوس حالت بیٹری کی تیاری

یہ بھی پڑھیں

Babar Azam returns to domestic cricket after seven years

بابراعظم کی سات برس بعد ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی

16 ستمبر , 2026
FESCO decides to outsource 2,200 line staff.

فیسکو کا 2 ہزار 200 لائن اسٹاف آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

16 ستمبر , 2026
The restriction on Pakistani airspace for Indian aircraft has been extended until October 24.

بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی پابندی میں 24 اکتوبر تک توسیع کردی

16 ستمبر , 2026
Afghan soil is being used for terrorism in Pakistan, says Talal Chaudhry.

پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، طلال چودھری

16 ستمبر , 2026
Load-shedding is taking place on 3,500 electricity feeders due to theft and line losses Awais Leghari.

بجلی کے ساڑھے3ہزار فیڈرز پر چوری اور لائن لاسز کے باعث لوڈشیڈنگ ہے، اویس لغاری

16 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔