رباط: (پاک ترک نیوز)مراکش نے پاکستان کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے کے بعد جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری پر غور شروع کر دیا ہے۔
پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ وہ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے 13 ممالک کے ساتھ دفاعی برآمدات سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے، جن میں مراکش بھی شامل ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ان مذاکرات میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے، مششک تربیتی طیارے اور بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق 2025 میں بھارت کے خلاف عملی کارروائی کے بعد جے ایف-17 کو عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل ہوئی، جبکہ کم لاگت اور عالمی دفاعی خریداری کے بدلتے رجحانات بھی اس دلچسپی کی بڑی وجہ بنے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جے ایف-17 کی سب سے بڑی خوبی اس کی نسبتاً کم قیمت ہے، جس کا تخمینہ 25 سے 30 ملین ڈالر فی طیارہ لگایا جا رہا ہے، جو مغربی ملٹی رول فائٹر جیٹس کے مقابلے میں کہیں کم ہے، جن کی قیمت اس سے تین گنا تک زیادہ ہوتی ہے۔یہ بڑھتی ہوئی دلچسپی 2025 میں اس وقت سامنے آئی جب پاک فضائیہ نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران جے ایف-17 اور چینی ساختہ جے-10 طیاروں کو ایک ساتھ استعمال کیا۔
اسلام آباد اس تجربے کو دفاعی برآمدات کے لیے ایک اہم حوالہ قرار دیتا ہے۔ پاکستان نے اس پیش رفت کو یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے باعث عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے بھی جوڑا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک متبادل اور کم خرچ دفاعی آپشنز کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔
جن ممالک کے ساتھ پاکستان دفاعی بات چیت کر رہا ہے، ان میں سوڈان، سعودی عرب، انڈونیشیا، مراکش، ایتھوپیا، نائیجیریا، مشرقی لیبیا کے حکام، بنگلہ دیش اور عراق شامل ہیں۔
ان میں سے بیشتر مسلم اکثریتی ممالک ہیں، جہاں پاکستان تاریخی طور پر سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر جانا جاتا ہے۔حکام کے مطابق بعض ممالک کے ساتھ مذاکرات محض ایک ہتھیار کی خرید تک محدود نہیں بلکہ مکمل دفاعی پیکجز پر مشتمل ہیں۔
مثال کے طور پر بنگلہ دیش جے ایف-17 بلاک تھری طیاروں کے ساتھ مششک ٹرینرز، شاہپر ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور مائن پروف گاڑیوں کی خرید پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔
پاکستان اس ماڈل کو طویل المدتی عسکری تعاون، تربیت اور لاجسٹک شراکت داری کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔تاہم پاکستان نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ فی الحال صنعتی صلاحیت ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ جے ایف-17 کی سالانہ پیداوار تقریباً 20 طیاروں تک محدود ہے۔
حکام کے مطابق 2027 کے اختتام تک فیکٹریوں کی توسیع کے ذریعے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ مشترکہ پیداوار کے باعث بعض ممالک کے لیے برآمدی اجازتوں کے معاملے میں حساسیت بھی موجود ہے، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں اقوام متحدہ کی پابندیاں نافذ ہیں۔
مراکش کے حوالے سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں حالیہ دنوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 13 جنوری 2026 کو رباط میں پاکستان اور مراکش کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس میں تربیت، مشترکہ مشقیں، سائبر سیکیورٹی، دفاعی صنعت اور فوجی طبی خدمات شامل ہیں۔
اس معاہدے کے تحت تعاون کے عملی نفاذ کے لیے باقاعدہ دوطرفہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔مراکش کی فضائیہ اس وقت زیادہ تر امریکی ایف-16 لڑاکا طیاروں پر انحصار کرتی ہے اور وہ اپنے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے نئے ایف-16 بلاک 70/72 طیارے خریدنے اور پرانے طیاروں کو ایف-16 وی معیار پر اپ گریڈ کرنے میں مصروف ہے۔
ایسے میں جے ایف-17 جیسے نئے طیارے کی شمولیت کے لیے مراکش کو لاجسٹکس، تربیت اور آپریشنل ہم آہنگی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔جے ایف-17 تھنڈر کو پاکستان ایک کم خرچ، چوتھی نسل کے ملٹی رول فائٹر کے طور پر پیش کرتا ہے، جسے چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے تاکہ پابندیوں سے متاثر ہونے والی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔
جدید بلاک تھری ورژن میں جدید ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور بہتر ہتھیاروں کی صلاحیت شامل کی گئی ہے، جس کے باعث یہ طیارہ کم لاگت میں مؤثر جنگی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق مراکش اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا عسکری تعاون اس بات کا اشارہ ہے کہ جے ایف-17 اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ افریقہ اور عرب دنیا میں بھی سنجیدگی سے زیرِ غور آ چکا ہے۔












