بیجنگ : (پاک ترک نیوز)چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔ پ
ریس کانفرس کے دوران جب انڈین صحافی نے شکسگام وادی میں چینی منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان مائو ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے ۔ چین اور پاکستان نے 1960ء کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ سی پیک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ چین – پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا موقف بدستور برقرار ہے۔
یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں۔ تاہم 2024 ء میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 ء میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 2024 ء کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔ اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔












