بیجنگ ( پاک ترک نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاریخی دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں جہاں دونوں صدور کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے ،پوری دنیا کی نظریں دو بڑے عالمی رہنماؤں کی ملاقات پر جم گئیں ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیجنگ میں شاندار استقبال کیا گیا گریٹ ہال آف دی پیپلز آمد پر چینی صدرشی جن پنگ نے امریکی ہم منصب کا خیر مقدم کیا۔۔ صدر ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا ایک دوسرے کو وفود کا تعارف کرایا۔۔امریکی صدر ٹرمپ کو 21توپوں کی سلامی دی گئی، چینی افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔۔ بچوں نے پھولوں اور پرچموں کو لہرا کر خوش آمدید کہا۔ڈونلڈ ٹرمپ دو ہزار سترہ کے بعد چین کا دورہ کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر بن گئے۔
دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا چین، امریکا تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے مثبت اقدام ہے ۔ مستقبل میں ہم مل کرکام کرینگے، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ۔ امریکا چین کے ساتھ تجارت کاخواہاں ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کا چینی صدر کو خراج تحسین ،دنیا کا عظیم رہنما قرار دے دیا ،کہا صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ شاندار رہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور چین دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں اور عالمی استحکام دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔۔۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا ہوگا۔۔۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع، عالمی سپلائی چین کے بحران اور معاشی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے میں سفارت کاری اور مذاکرات ہی تمام بحرانوں کا حل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس ملاقات سے کئی اہم نتائج سامنے آسکتے ہیں۔۔۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ۔ دونوں ممالک ٹیرف، ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے معاملات پر نئے معاہدوں کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔۔۔ ایران تنازع اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی دونوں طاقتوں کے درمیان سفارتی تعاون بڑھنے کا امکان ہے۔۔۔ عالمی معیشت کو درپیش خطرات کم ہوسکتے ہیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس اور عالمی تجارت میں بھی مثبت اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔۔۔ روس، ایران، تائیوان، یوکرین اور عالمی توانائی منڈی سمیت کئی اہم معاملات میں نئی سفارتی صف بندیاں سامنے آسکتی ہیں۔۔۔ تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور اصل امتحان ملاقات کے بعد عملی اقدامات ہوں گے۔












