بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین 134 کلومیٹر لمبی نہر کھود رہا ہے تاکہ جہاز اندرونی دریاؤں کے راستے گہرے علاقوں تک جا سکیں، اور یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ تجارت کے لیے قدرتی سرحدوں کو کس حد تک دوبارہ تشکیل دے رہا ہے۔
چین پنگلو کینال پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جو134 کلومیٹر طویل ایک بڑا آبی راستہ ہے، جس کا مقصد اندرونی دریائی راستوں سے بحیرۂ جنوب چین اور بین الاقوامی سمندری راستوں تک شپنگ کو ممکن بنانا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک کے جنوب مغربی علاقوں سے سامان کی ترسیل کو تیز کرنا، لاگت کم کرنا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
یکائی برج جو 27 مجوزہ پلوں میں سے ایک ہے، باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔۔رواں ہفتے ایک نیا پل کھلنے سے منصوبے کی پیش رفت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت بظاہر مقامی لگتی ہے، لیکن یہ بڑے تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔ جب جہاز پلوں کے نیچے سے اور لاکس کے ذریعے آسانی سے گزر سکیں گے تو یہ نہر پانی پر مال برداری کے لیے ایک مکمل ہائی وے بن جائے گی۔
یہ راستہ چین کے صوبے گوانگشی کے دارالحکومت ناننگ کو خلیجِ ٹونکن سے ملاتا ہے۔ یہ زیادہ تر قنچانگ دریا کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور پھر ساحل تک پہنچتا ہے۔
یہ راستہ اندرونی دریائی تجارت کو سمندری راستوں سے جوڑتا ہے، تاکہ مال کو گوانگ ڈونگ کے روایتی راستے سے گزارنے کی ضرورت نہ رہے۔ اس سے فاصلہ کم ہوگا، اور فاصلہ کم ہونے سے لاگت بھی کم ہوتی ہے، چاہے وہ الیکٹرانکس ہوں یا روزمرہ استعمال کی اشیا۔
یہ نہر ایک سیدھی کھائی نہیں ہے بلکہ اس میں تقریباً 213 فٹ پانی کی سطح کا فرق موجود ہے۔ اسی لیے اس منصوبے میں شپ لاکس استعمال کیے جا رہے ہیں۔
شپ لاک دراصل جہازوں کے لیے ایک لفٹ کی طرح کام کرتا ہے، دروازے بند کیے جاتے ہیں، چیمبر میں پانی اوپر یا نیچے کیا جاتا ہے، اور پھر جہاز اگلی سطح پر منتقل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں تین بڑے ڈبل لین لاک سسٹم شامل ہیں، اور راستے میں 27 پل تعمیر یا اپگریڈ کیے جا رہے ہیں۔اگر یہ نہر مکمل طور پر کامیاب ہو جاتی ہے تو اندازہ ہے کہ یہ موجودہ زمینی اور دریائی راستوں سے تقریباً 560 کلومیٹر فاصلہ کم کر دے گی۔
اس سے سالانہ تقریباً 5.2 ارب یوآن کی بچت متوقع ہے، جو زیادہ تر ایندھن اور وقت کی بچت سے ہوگی۔ اس کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ کمپنیاں اپنے گودام اور فیکٹریاں کہاں لگائیں، اس کا فیصلہ بدل جائے۔
منصوبے پر تقریباً 90 فیصد بجٹ خرچ ہو چکا ہے۔ اس کی کل لاگت تقریباً 10 ارب ڈالر ، اور اسے 2026 کے آخر تک آپریشنل کرنے کا ہدف ہے۔
یہ نہر صرف چین کے اندرونی تجارت کے لیے نہیں بلکہ جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق چین کی آسیان ممالک کو برآمدات میں 2025 میں 13.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ کو برآمدات میں 20 فیصد کمی آئی۔ یہی تبدیلی چین کی توجہ کو جنوب کی طرف ظاہر کرتی ہے۔خلیجِ بئیبو پورٹ، جو اس نہر کا آخری سمندری پوائنٹ ہے، 2025 میں 10 ملین سے زیادہ کنٹینرز (TEUs) ہینڈل کر چکا ہے، جو بندرگاہوں کی بڑی پیمائش ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں 36 ماحولیاتی تحفظ زونز شامل ہیں، جنگلی حیات کے راستے، اور مچھلیوں کی نقل و حرکت کے لیے خاص نظام بھی بنایا گیا ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑی نہریں پانی کے بہاؤ کو بدل سکتی ہیں، نمکین پانی اندر تک جا سکتا ہے، اور آہستہ پانی والے علاقوں میں آلودگی بڑھ سکتی ہے۔
اصل امتحان اس وقت ہوگا جب تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ کیا واقعی وقت اور ایندھن کی بچت کا فائدہ سامنے آئے گا؟ اور کیا ماحولیاتی تحفظ کے وعدے عملی طور پر برقرار رہیں گے؟












