تہران: (پاک ترک نیوز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نےدعویٰ کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی لہر پر ریاست نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اکثریتی مظاہرین کو بیرونی عناصر کی جانب سے اکسانے کا ثبوت موجود ہے۔
تہران میں غیر ملکی سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ملک میں احتجاج کا آغاز پُرامن انداز میں ہوا تھا، جن کے دوران حکومت نے عوامی خدشات کو سنجیدگی سے سنا اور بعض معاشی اصلاحات کا آغاز بھی کیا۔
اُن کے مطابق دسمبر کے اختتام تک احتجاج محدود نوعیت کا تھا، تاہم جنوری کے آغاز میں اچانک صورتحال بدل گئی۔وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں بعض نئے گروہ، شدت پسند عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کے افراد احتجاج میں شامل ہوئے، جس کے نتیجے میں مظاہرے تشدد، فائرنگ اور خونریزی میں تبدیل ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اِن عناصر کو اسلحہ فراہم کیا گیا اور انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کا مقصد حالات کو بگاڑ کر بیرونی مداخلت کا جواز پیدا کرنا تھا۔
عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ کیا اور تشدد کو ہوا ملی۔ اُن کے مطابق داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جن میں قتل، جلانے اور دیگر سفاکانہ کارروائیاں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اِن واقعات کے دوران سرکاری و نجی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا، جن میں دکانیں، بسیں، ہسپتال اور سینکڑوں مساجد شامل ہیں۔ کچھ افراد کو مالی ترغیبات دے کر حساس مقامات اور پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملوث افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ جلد گرفتار شدگان کے اعترافی بیانات اور شواہد منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ احتجاج میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد پُرامن تھے، جن کے مطالبات کو حکومت جائز تسلیم کرتی ہے، جبکہ 70 فیصد مظاہرین کو غیر ملکی عناصر نے بھڑکایا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ملک میں استحکام بحال ہو چکا ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی جلد مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالات پر مکمل گرفت حاصل کر لی ہے اور پرامن شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔












