
از: سہیل شہریار
امریکہ نےغزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کم از کم دو سال کا مینڈیٹ مانگ لیا ہے۔ جبکہ اسلامی ملکوں کی تنظیم نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کر دیا ہے۔
غزہ میں قیام امن کے حوالے سے ہونے والی پہلی اہم پیش رفت میں او آائی سی کے وزرائے خارجہ کے ترکیہ میں ہونے والے اہم اجلاس میں اسلامی دنیا نے غزہ میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے اسرائیلی فوج کے علاقے سے مکمل انخلا کا متفقہ مطالبہ کر دیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب اور پاکستان سمیت مسلم ملکوں کی بڑی تعداد نے مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لئے دو ریاستی حل کی تجویز پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب غزہ میںجنگ کے طویل مدتی خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر عملدرآمد کے لئے امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں صدر ٹرمپ کی سربراہی میں بنائے جانے والے ادارے بورڈ آف پیس کے ماتحت بین الاقوامی فورس کے ابتدائی طور پر دو سال کے لئے قیام کی قراردجمع کروادی ہے۔جس کے مطابق اس فورس کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2027 کو ختم ہو جائے گا۔ تاہم اس تاریخ میں سلامتی کونسل کی منظور ی سے توسیع کی جاسکے گی۔
قرارداد کے مسودے کے مطابق یہ فورس غزہ کو غیر فوجی بنانے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ جس کے مینڈیٹ میں مسلح گروپوں کے ہتھیاروں کی "مستقل تخفیف” ۔ فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت اور مدد۔ امن و امان کا قیام اور شہریوں کی حفاظت اور انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو محفوظ بنانا شامل ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مجوزہ بین الاقوامی فورس کے مینڈیٹ میں شامل سب سے اہم نکتہ غزہ کو غیر عسکری بنانا ہے ۔مگر یہ کیسے ممکن ہوگا؟۔ کیونکہ اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد حماس کی نظریاتی اساس ہے۔ اور یہ تنظیم ہمیشہ سے ہتھیاروں کو ترک کرنے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتی رہی ہے۔اسی طرح بہت سے ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کو غزہ میں فوج بھیجنے پر غور کرنےکے لئےضروری سمجھتے ہیں۔ مگر تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس مسودے کو سلامتی کونسل میں منظوری کے لیے کافی حمایت حاصل ہوگی۔قرار داد کی منظوری کے لئے 15 میں سے کم از کم نو ارکان کو اس کے حق میں ووٹ دینے کی ضرورت ہوگی ۔جبکہ پانچوں مستقل ارکان کو ویٹو سے پرہیز کرنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجیوں کی تعیناتی غزہ میں جنگ بندی کو مزید تقویت دے سکتی ہے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان نئے سرے سے تصادم کے امکانات کو کم کر سکتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اسرائیل پہلے ہی جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا اور اسکی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری اور زمینی فوجی کاروائیاں جاری ہیں۔تو ایسے میں علاقے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی ہی امن کے قیام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔












