تل ابیب(پاک ترک نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا ۔ اپوزیشن نےحکومت سازی کیلئے کوششیں تیز کردیں ۔
تفصیلات کےمطابق اسرائیل میں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج میں 90یصد گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کا انتخابی اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے جبکہ اپوزیشن اورعرب جماعتوں کی نشستیں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں ۔
اسرائیلی انتخابات کے نتائج نے سیاسی منظرنامہ بدلنے کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔ 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو اور ان کے اتحادی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام قرار دیے جا رہے ہیں۔ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں، جبکہ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کو 48 نشستیں ملنے کی اطلاعات ہیں۔ عرب جماعتیں 19 نشستوں پر برتری کے ساتھ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا اسٹارلنک موبائل 2 سے 3 سال میں فعال کرنے کا دعویٰ
انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 78 فیصد رہا، جبکہ تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں جشن منائے جانے کی اطلاعات ہیں۔امریکی میڈیا کی جانب سے بھی نیتن یاہو کی شکست کی خبریں سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی نتائج اور حکومت سازی کی صورتِ حال کی تصدیق ضروری ہے۔اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر کسی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اور جماعتوں کو حاصل ووٹوں کے تناسب سے پارلیمانی نشستیں دی جاتی ہیں۔ موجودہ نتائج کی روشنی میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے دور دکھائی دے رہی ہے، جبکہ حتمی سیاسی منظرنامہ اتحادی جماعتوں کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔










