اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر دو بجے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوگا۔ پہلے دور میں فریقین نے ایک دوسرے کے مطالبات اور مؤقف سے آگاہ کیا تاہم کوئی حتمی پیش رفت نہ ہوسکی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پہلے دور میں حکومتی اور اپوزیشن وفود نے اپنے اپنے مطالبات ایک دوسرے کے سامنے رکھے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ملک مزید احتجاج، دھرنوں اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے پی ٹی آئی لانگ مارچ کی کال واپس لے۔ حکومتی وفد نے سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کا نظام ری سیٹ ہونے والا ہے، معاملات میں بہتری آئے گی، محسن نقوی
دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی لانگ مارچ کے معاملے پر اپنے بنیادی مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد، ان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق سہولت، ملاقاتوں کی اجازت، جبکہ عمران خان کی بہنوں اور گرفتار پارٹی رہنماؤں سے متعلق معاملات اٹھائے گئے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی سیاسی مطالبات پر ابھی اتفاق نہیں ہوسکا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا حتمی فیصلہ حکومت کی سنجیدگی اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے مشروط ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم کو مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات بھی ان کے سامنے رکھے۔












