اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو ہزار تیس کی ڈیڈ لائن میں صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں، تاہم پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت ناکافی اور سست ہے۔نیویارک میں عالمی ترقیاتی اقدام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی خلا میں اضافہ اور شدید موسمی آفات پائیدار ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، جبکہ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی مسائل میں اضافہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت ہے۔ چین اور اس کے عالمی ترقیاتی اقدام نے اس سلسلے میں بروقت پیش رفت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم کا دورہ امریکا مکمل ،لندن پہنچ گئے
شہباز شریف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے دانشمندانہ فیصلوں اور بصیرت کو آج دنیا تسلیم کرتی ہے۔ پاکستان عالمی ترقیاتی اقدام کی مکمل حمایت اور توثیق کرتا ہے، یہ اقدام ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے درمیان تعاون اور ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے جاری ہے، جبکہ سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو مل کر انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی برادری کے تصور کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی، موسمیاتی اور ترقیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔












