اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے جامع اصلاحات کی منظوری دے دی۔وزیراعظم کی زیر صدارت ٹی ڈی اے پی کی کارکردگی اور اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سمیت مقامی صنعتوں کو عالمی برآمدی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹی ڈی اے پی پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں معاونت فراہم کرے گا۔ ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے مقامی صنعتوں کی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے زرعی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے مکمل ایکو سسٹم اور ویلیو چین تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی اے پی میں بھرتیوں کے دوران شفافیت اور میرٹ یقینی بنایا جائے اور باصلاحیت و تربیت یافتہ افرادی قوت کو ادارے کا حصہ بنایا جائے۔اجلاس میں ٹی ڈی اے پی کے بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تنظیم نو، ادارے کے دائرہ کار کو آٹھ بنیادی افعال تک محدود کرنے، علاقائی نیٹ ورک مؤثر بنانے اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔تجارتی فروغ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے کے ساتھ ادارے کی کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اشاریے اور آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی۔وزیراعظم نے ٹی ڈی اے پی کے پرفارمنس اور مالیاتی آڈٹ کے لیے اچھی شہرت رکھنے والی نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اصلاحات کی منظوری، ڈیزائن، نفاذ اور آزادانہ جانچ پر مشتمل 12 ماہ کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحات آئندہ سال کے وسط تک مکمل کرکے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا لیزر ہتھیار، ڈرونز کے لیے نیا خطرہ
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی استعداد وسیع اور جغرافیائی محل وقوع موزوں ہے، اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے صنعتوں اور کاروبار کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر وزیراعظم ہارون اختر اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے شرکت کی۔











