اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) سپریم کورٹ نے حق مہر اور نکاح نامے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔عدالت ٹ نے قرار دیا ہے کہ بطور حق مہر طے کی گئی جائیداد بیوی کے نام منتقل نہ ہو سکے تو شوہر اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوگا۔
عدالت کے مطابق طے شدہ جائیداد کی قیمت بیوی کو ادا کرنا ہوگی، جبکہ نکاح نامے میں جائیداد کی قیمت درج نہ ہونے کی صورت میں عدالت مارکیٹ ویلیو کا تعین کرسکتی ہے۔
چار رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ نکاح محض عام سول یا تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ اپنی نوعیت کا منفرد قانونی ادارہ ہے۔ حق مہر بیوی کی قیمت یا شادی کا تجارتی معاوضہ نہیں بلکہ بیوی کا لازمی، خصوصی اور قابلِ نفاذ مالی حق ہے۔
عدالت نے کہا کہ نکاح ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے جبکہ نکاح نامہ اس کا سرکاری ریکارڈ اور شادی کے معاہدے کا بنیادی دستاویزی ثبوت ہے۔ نکاح نامے میں درج اندراجات کے درست ہونے کا قانونی مفروضہ موجود ہوگا، تاہم مضبوط شواہد کی بنیاد پر اسے رد کیا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق نکاح نامے میں مبہم یا متضاد اندراجات کی صورت میں عدالت دیگر قابلِ قبول شواہد کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔
فیصلے میں نکاح نامے کے کالم 13 سے 16 کو باہم مربوط انداز میں پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کالم 13 میں حق مہر نقد یا جائیداد کی صورت میں درج کیا جاسکتا ہے، کالم 14 معجل اور مؤجل مہر، کالم 15 ادا شدہ مہر جبکہ کالم 16 حق مہر کے عوض دی گئی جائیداد کی تفصیل سے متعلق ہے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے اضافی نوٹ بھی تحریر کیا۔ اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ فریقین کی نیت کا تعین بنیادی طور پر نکاح نامے سے کیا جانا چاہیے اور بعد کے زبانی دعوؤں کو نکاح نامے پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے۔
جسٹس شاہد بلال حسن کے مطابق نکاح نامہ لازمی قانونی فارم ہے اور اس کے ہر کالم کا الگ مقصد ہے۔ نکاح رجسٹرار تمام متعلقہ کالم احتیاط سے مکمل کریں، جائیداد بطور مہر ہو تو اس کی مکمل تفصیل اور قیمت درج کی جائے۔
اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ اہم شرائط دستخط سے پہلے فریقین کو پڑھ کر سنائی جائیں اور کسی کالم کو بلاوجہ خالی نہ چھوڑا جائے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ انفرادی مقدمات متعلقہ حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر الگ بینچز کے سامنے سنے جائیں گے۔












